الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء في الجذع من الضأن في الأضاحي
باب: بھیڑ کے جذع کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي كِبَاشٍ , قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ , فَكَسَدَتْ عَلَيَّ , فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نِعْمَ " أَوْ: " نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ " , قَالَ: فَانْتَهَبَهُ النَّاسُ قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَأُمِّ بِلَالِ ابْنَةِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِيهَا , وَجَابِرٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا , وَعُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ هُوَ: ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ.
ابوکباش کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تجارت کے لیے جذع یعنی دنبہ کے چھوٹے بچے لایا اور بازار مندا ہو گیا ۱؎، لہٰذا میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بھیڑ کے جذع کی قربانی خوب ہے!“ ابوکباش کہتے ہیں (یہ سنتے ہی) لوگ اس کی خریداری پر ٹوٹ پڑے۔ اس باب میں ابن عباس، ام بلال بنت ہلال کی ان کے والد سے اور جابر، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم اور ایک آدمی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی مروی ہے،
۳- عثمان بن واقدیہ ابن محمد بن زیاد بن عبداللہ بن عمر بن خطاب ہیں،
۴- صحابہ کرام میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ بھیڑ کا جذع قربانی کے لیے کفایت کر جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1499]
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی مروی ہے،
۳- عثمان بن واقدیہ ابن محمد بن زیاد بن عبداللہ بن عمر بن خطاب ہیں،
۴- صحابہ کرام میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ بھیڑ کا جذع قربانی کے لیے کفایت کر جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15456) وانظر مسند احمد (2/445) (ضعیف) (سند میں ”عثمان بن واقد“ حافظہ کے کمزور اور ”کدام“ و ”ابوکباش“ مجہول ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بازار مندہ پڑ گیا دوسری جانب جذع کی قربانی درست نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ انہیں خرید نہیں رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (64) ، المشكاة (1468) ، الإرواء (1143) // ضعيف الجامع الصغير (5971) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1499) إسناده ضعيف
أبو كباش: مجھول (تق: 8318) وكدام: مجھول الحال (التحرير: 5635) وثقھما الترمذي وحده
أبو كباش: مجھول (تق: 8318) وكدام: مجھول الحال (التحرير: 5635) وثقھما الترمذي وحده
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1499
| نعمت الأضحية الجذع من الضأن |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1499 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1499
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی بازار مندہ پڑگیا دوسری جانب جذع کی قربانی درست نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ انہیں خرید نہیں رہے تھے۔
نوٹ:
(سند میں ”عثمان بن واقد“ حافظہ کے کمزور اور”کدام“ اور ”ابوکباش“ مجہول ہیں)
وضاحت:
1؎:
یعنی بازار مندہ پڑگیا دوسری جانب جذع کی قربانی درست نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ انہیں خرید نہیں رہے تھے۔
نوٹ:
(سند میں ”عثمان بن واقد“ حافظہ کے کمزور اور”کدام“ اور ”ابوکباش“ مجہول ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1499]
أبو كباش العيشي ← أبو هريرة الدوسي