Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما جاء في الغلول
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكَنْزِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: " الْكَنْزُ "، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: " الْكِبْرُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہو گا ۱؎۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصدقات 12 (2412)، و مسند احمد (5/281 (تحفة الأشراف: 2114)، (صحیح) (الکنز کا لفظ شاذ ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم 2785)»
وضاحت: ۱؎: «کنز» : وہ خزانہ ہے جو زمین میں دفن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ «غلول» : مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بهذه اللفظة، الصحيحة (2785)
قال الشيخ زبير على زئي:(1573) إسناده ضعيف
قتادة عنعن فى ھذا اللفظ : ”الكنز “ (وتقدم: 30) وروي الإمام أحمد (282/5) عن ثوبان رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (( من فارق الروح الجسد وھو بري من ثلاث دخل الجنة : الغلال والدين (قال بھز:) والكبر)) وسنده صحيح وھو يغني عنه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥معدان بن أبي طلحة اليعمري
Newمعدان بن أبي طلحة اليعمري ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← معدان بن أبي طلحة اليعمري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1573
فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث الكنز الغلول الدين دخل الجنة
جامع الترمذي
1572
مات وهو بريء من ثلاث الكبر الغلول الدين دخل الجنة
سنن ابن ماجه
2412
من فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث دخل الجنة من الكبر الغلول الدين
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1573 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1573
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کنز:
وہ خزانہ ہے جو زمین میں د فن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔

غلول:
مال غنیمت میں خیانت کرنا۔

نوٹ:
(الکنزکا لفظ شاذ ہے،
دیکھئے:
الصحیحة رقم: 2785)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1573]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2412
قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2412]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث میں مذکورتینوں گناہ بہت بڑے گناہ ہیں۔

(2)
کبیرہ گناہوں کا مرتکب اگراللہ نے پہلے پہل معاف نہ کیے، جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا حتی کہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت لے۔
یہ سزا سیکڑوں سال طویل بھی ہوسکتی ہے جب کہ جہنم کی ایک سکینڈ کی سزا بھی ناقابل برداشت ہے۔

(3)
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے:
(الکِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ)
 (صحیح مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر وبیانه، حدیث: 91)
 تکبر، حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔

(4)
مال غنیمت مسلمانوں کا مشترکہ حق ہوتا ہے۔
جب تقسیم کرکے ہرمجاہد کو اس کا حصہ د ے دیا جائے تو وہ ان کی جائز ملکیت بن جاتا ہے۔
تقسیم سے پہلے معمولی سی چیز لینا بھی حرام ہے، اسی طرح قوم کی اجتماعی ملکیت میں ناجائز تصرف کرنا یا اسے نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے جیسے قومی خزانے کےمال کو اپنی ضروریات پرخرچ کر لینا۔
مسجد مدرسہ یا کسی دینی یا دنیاوی تنظیم کافنڈ انھی مصارف پرخرچ ہونا چاہیے جن کےلیے وہ اکٹھا کیا جاتا ہے، اگرکوئی عہدے دار ان کے علاوہ کسی اورمصرف میں خرچ کرتا ہے توخیانت ہے۔

(5)
قرض جان بوجھ کرادا نہ کرنا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرنا فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2412]