🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ما جاء في فضل الغدو والرواح في سبيل الله
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، و 73 (2892)، وبدء الخلق 8 (325)، والرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، سنن النسائی/الجہاد 11 (3120)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 2 (2756)، والزہد 39 (4330)، (تحفة الأشراف: 4734)، و مسند احمد (3/433)، و (5/330، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیا گیا، کیونکہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اتر نے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کر لیتا ہے، گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہو گئی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔ اور دوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدار ومسافت بتلا کر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2756)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عطاف بن خالد المخزومي، أبو صفوان
Newعطاف بن خالد المخزومي ← سلمة بن دينار الأعرج
صدوق يهم
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عطاف بن خالد المخزومي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2892
رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها موضع سوط أحدكم من الجنة خير من الدنيا وما عليها الروحة يروحها العبد في سبيل الله أو الغدوة خير من الدنيا وما عليها
صحيح البخاري
2794
الروحة والغدوة في سبيل الله أفضل من الدنيا وما فيها
صحيح مسلم
4874
الغدوة يغدوها العبد في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
جامع الترمذي
1648
غدوة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها
جامع الترمذي
1664
رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها موضع سوط أحدكم في الجنة خير من الدنيا وما فيها روحة يروحها العبد في سبيل الله أو لغدوة خير من الدنيا وما فيها
سنن النسائى الصغرى
3120
الغدوة والروحة في سبيل الله أفضل من الدنيا وما فيها
سنن ابن ماجه
2756
غدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
مسندالحميدي
959
موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1648 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1648
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیاگیا،
کیوں کہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اترنے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے،
گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتاہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہوگئی ہے،
کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔
اوردوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدارومسافت بتلاکر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1648]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3120
اللہ کے راستے (جہاد) میں صبح سویرے نکلنے کی فضیلت کا بیان۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3120]
اردو حاشہ:
کیونکہ جہاد کو جانے کا ثواب باقی رہنے والی چیز ہے اور دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ باقی اور فانی کا کیا مقابلہ؟ خواہ باقی مقدار کے لحاظ سے قلیل اور فانی کثیر۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3120]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:959
959- سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور ا س کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:959]
فائدہ:
اس حدیث سے جنت کی تھوڑی سی جگہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جب جنت کی ایک کوڑا رکھنے کی مقدار جگہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہے تو جنت کے ایک محل کا کیا مقام و مرتبہ ہوگا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 958]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2794
2794. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح وشام دنیا اور اس کی ہر چیز سے افضل ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2794]
حدیث حاشیہ:
جہاد فی سبیل اللہ کے فضائل میں بہت سی آیات قرآنی اور احادیث نبوی وارد ہوئی ہیں ان ہی میں سے یہ احادیث بھی ہیں جو فضائل جہاد کو واضح لفظوں میں ظاہر کر رہی ہیں۔
قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی زندگی شاہد ہے کہ انہوں نے اسلام کو اور اس کے مقاصد عالیہ کو کما حقہ سمجھا تھا اور وہ اسی بنا پر سر پر کفن باندھے ہوئے پوری دنیا میں سرگرداں اور کوشاں ہوئے اور ایک ایسی تاریخ بنا گئے جو قیامت تک آنے والے اہل اسلام کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2794]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2892
2892. حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ جنت میں تم میں سے کسی کے کوڑا رکھنے کی جگہ تمام دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور کسی شخص کاصبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں چلنا ساری دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2892]
حدیث حاشیہ:
اسلامی شرعی ریاست میں سرحد پر چوکی پہرے کی خدمت جس کو سونپی جائے اور وہ اسے بخوبی انجام دے تو اس کا نام بھی مجاہدین میں ہی لکھا جاتا ہے اور اس کو وہ ثواب ملتا ہے جس کے سامنے دنیا کی ساری دولت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ دنیا بہرحال فانی اور اس کا ثواب بہرحال باقی ہے۔
الرباط بکسر الراء لموحدة الخفیفة ملازمة المکان الذي بین المسلمین والکفار لحراسة المسلمین منھم واستدل المصنف بالآیة اختیار لأشھر التفاسیر فعن الحسن البصري والقتادة اصبروا علی طاعة اللہ و صابروا أعداء اللہ في الجھاد ورابطوا في سبیل اللہ وعن محمد بن الکعب أصبروا علی الطاعة وصابروا لانتظار الوعد ورابطو العدو وتقوا اللہ فیما بینکم (فتح)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2892]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2794
2794. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح وشام دنیا اور اس کی ہر چیز سے افضل ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2794]
حدیث حاشیہ:

ان احادیث سے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلانا مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مجاہد کو تھوڑا سا جہاد کرنے کے عوض آخرت میں اجرعظیم عطا فرماتاہے تو جو شخص جہاد میں اپنا مال صرف کرے اور اپنی جان لٹا دے اس کے اجر و ثواب کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔

لوگوں کے دلوں میں دنیا کے مال ومتاع کی بہت عظمت ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بے ثباتی ان الفاظ میں بیان فرمائی:
اگر کسی کو پوری دنیا بھی مل جائے اور وہ دنیا کی ہر چیز کا مالک ہوجائے تو بھی جنت کی ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس تعلیم کا یہ اثر ہواکہ مسلمانوں نے اسلام اور اس کے مقاصد کو سمجھا،پھر وہ سر پرکفن باندھ کر پوری دنیا پر چھاگئے،اور ایسی تاریخ رقم کرگئے جو قیامت تک آنے والے اہل اسلام کے لیے مشعل راہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2794]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2892
2892. حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ جنت میں تم میں سے کسی کے کوڑا رکھنے کی جگہ تمام دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور کسی شخص کاصبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں چلنا ساری دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2892]
حدیث حاشیہ:

چوکی پہرے کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ ک صلی اللہ علیہ وسلم ا ارشاد گرامی ہے:
ایک دن رات پہرہ دینا ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔
اگرپہرہ دیتے ہوئے کوئی مجاہد شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل برابر جاری رہے گا اور اسے اس پر اجر دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے امن رہے گا۔
(صحیح مسلم، الإمارة، حدیث 4938(1913)

سرحد پر دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا تاکہ دشمن مسلمانوں کے علاقے میں گھسنے نہ پائے اور اپنی سرحدوں کی نگرانی کرنا رباط کہلاتا ہے۔
یہ پہرہ دینا کے تمام سازوسامان سے بہتر ہے کیونکہ دنیا فانی ہے اس کا سامان ختم ہونے والاہے جبکہ پہرہ دینے کے ثمرات باقی رہنے والے ہیں اور جو چیز فنا ہونے والی ہے وہ باقی رہنے والی اشیاء سے کیونکر افضل ہوسکتی ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2892]