سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء في الرجل يبعث وحده سرية
باب: سریہ (جنگی ٹولی) میں کسی کو تنہا روانہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ: أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيُّ: " بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ، أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اکیلا) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة النساء 11 (4584)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1834)، سنن ابی داود/ الجہاد 96 (2624)، سنن النسائی/البیعة 28 (4205)، (تحفة الأشراف: 5651) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «أولو الأمر» کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ «ولاۃ و أمراء» ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علما اور امرا دونوں مراد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (2359)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1672
| بعثه رسول الله على سرية |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1672 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1672
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں 'أولو الأمر' کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں،
مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ ولاۃ و أمراء ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے،
بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں،
ایک قول یہ ہے کہ علماء اور امرا دونوں مراد ہیں۔
وضاحت:
1؎:
حدیث میں 'أولو الأمر' کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں،
مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ ولاۃ و أمراء ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے،
بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں،
ایک قول یہ ہے کہ علماء اور امرا دونوں مراد ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1672]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي