🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنَ الصَّلَاةِ رِضْوَانُ اللَّهِ، وَالْوَقْتُ الْآخِرُ عَفْوُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَابْنِ عُمَرَ , وَعَائِشَةَ , وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ فَرْوَةَ لَا يُرْوَى إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَاضْطَرَبُوا عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اول وقت میں اللہ کی رضا مندی کا موجب ہے اور آخری وقت میں اللہ کی معافی کا موجب ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ابن عباس رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے،
۳- اور اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ام فروہ کی (اوپر والی) حدیث (نمبر: ۱۷۰) عبداللہ بن عمر عمری ہی سے روایت کی جاتی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، اس حدیث میں لوگ ان سے روایت کرنے میں اضطراب کا شکار ہیں اور وہ صدوق ہیں، یحییٰ بن سعید نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7731) (موضوع) (سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں اور یعقوب بن ولید مدنی کو ائمہ نے کذاب کہا ہے)»
قال الشيخ الألباني: موضوع، الإرواء (259) ، المشكاة (606) ، // ضعيف الجامع (6164) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جداً ( موضوع )
يعقوب بن الوليد : كذبه أحمد وغيره (تق:7835)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن، أبو القاسم
Newعبد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ضعيف الحديث
👤←👥يعقوب بن الوليد الأزدي، أبو هلال، أبو يوسف
Newيعقوب بن الوليد الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي
كذاب خبيث
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← يعقوب بن الوليد الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
172
الوقت الأول من الصلاة رضوان الله والوقت الآخر عفو الله
بلوغ المرام
141
‏‏‏‏اول الوقت رضوان الله واوسطه رحمة الله وآخره عفو الله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 172 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 172
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں اور یعقوب بن ولید مدنی کو آئمہ نے کذاب کہا ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 172]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 141
آخر وقت (میں ادا کرنا) اللہ تعالیٰ سے معافی کا موجب ہے
«. . . وعن ابي محذورة ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: ‏‏‏‏اول الوقت رضوان الله واوسطه رحمة الله وآخره عفو الله . . .»
. . . سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اول وقت (میں نماز پڑھنا) رضائے الٰہی کا موجب ہے اور درمیانی وقت (میں ادائیگی نماز) رحمت الٰہی کا سبب ہے اور آخر وقت (میں ادا کرنا) اللہ تعالیٰ سے معافی کا موجب ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 141]
لغوی تشریح:
«دون الاوسط» سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں درمیانے وقت کا ذکر نہیں۔ اس میں صرف اول اور آخر کا ذکر ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ دونوں احادیث انتہائی ضعیف ہیں۔ ان پر اعتماد مناسب نہیں۔ جہاں تک (بلوغ المرام حدیث 141 میں) سنن دارقطنی کی روایت کا تعلق ہے تو وہ روایت یعقوب بن ولید کے واسطے سے مروی ہے۔ امام أحمد رحمہ اللہ کا اس کے بارے میں قول ہے کہ یہ بڑے بڑے دروغ گو لوگوں میں سے ہے۔ اور ابن معین نے بھی اسے جھوٹا اور کذاب قرار دیا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے نظر انداز ہی کر دیا ہے۔ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث وضع کیا کرتا (خود گھڑتا اور اپنی طرف سے بناتا) تھا۔ اور اس کی سند میں ابراہیم بن زکریا بجلی بھی موجود ہے جسے مہتم قرار دیا گیا ہے۔ رہی ترمذی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت تو اس میں بھی یعقوب بن ولید موجود ہے۔
➋ محدیثین ناقدین کے نقد و جرح کے بعد یہ حدیث قابل اعتنا ہی نہیں رہتی۔

راویٔ حدیث:
(سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ) ان کا نام سمرہ یا اوس بن مِعْیر (میم کے نیچے کسرہ، عین ساکن اور یا پر فتحہ ہے) جہمی ہے۔ مؤذن رسول تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ مکہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ نماز پنجگانہ کی اذان دیتے تھے۔ 59 ہجری میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 141]