سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في لبس الصوف
باب: اونی کپڑا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ، وَجُبَّةُ صُوفٍ، وَكُمَّةُ صُوفٍ، وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ، وَكَانَتْ نَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، وَحُمَيْدٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَعْرَجُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَحُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ صَاحِبُ مُجَاهِدٍ ثِقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْكُمَّةُ: الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيرَةُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل (پائجامہ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں،
۳- «کمہ»: چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1734]
۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں،
۳- «کمہ»: چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9328) (ضعیف جدا) (سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، الضعيفة (4082) // ضعيف الجامع الصغير (4154) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1734) إسناده ضعيف
حميد الأعرج :ضعيف (تق:1566)
حميد الأعرج :ضعيف (تق:1566)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن الحارث الزبيدي عبد الله بن الحارث الزبيدي ← عبد الله بن مسعود | ثقة | |
👤←👥حميد الأعرج حميد الأعرج ← عبد الله بن الحارث الزبيدي | متروك الحديث | |
👤←👥خلف بن خليفة الأشجعي، أبو أحمد خلف بن خليفة الأشجعي ← حميد الأعرج | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← خلف بن خليفة الأشجعي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1734
| كان على موسى يوم كلمه ربه كساء صوف وجبة صوف وكمة صوف وسراويل صوف وكانت نعلاه من جلد حمار ميت |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1734 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1734
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1734]
عبد الله بن الحارث الزبيدي ← عبد الله بن مسعود