🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب ما جاء في إكثار ماء المرقة
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر و الصلة 42 (2625/142)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 58 (3362)، (تحفة الأشراف: 11951)، و مسند احمد (5/149، 156، 161، 171) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1368) ، التعليق الرغيب (3 / 264)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر
Newعبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← عبد الله بن الصامت الغفاري
ثقة
👤←👥صالح بن رستم الخزاز، أبو عامر
Newصالح بن رستم الخزاز ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
صدوق كثير الخطأ
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← صالح بن رستم الخزاز
ثقة
👤←👥عمرو بن محمد العنقزي، أبو سعيد
Newعمرو بن محمد العنقزي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥الحسين بن الأسود العجلي، أبو عبد الله
Newالحسين بن الأسود العجلي ← عمرو بن محمد العنقزي
ضعيف الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6690
لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طلق
جامع الترمذي
1833
لا يحقرن أحدكم شيئا من المعروف وإن لم يجد فليلق أخاه بوجه طليق وإن اشتريت لحما أو طبخت قدرا فأكثر مرقته واغرف لجارك منه
بلوغ المرام
1261
‏‏‏‏لا تحقرن من المعروف ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1833 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1833
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اپنے مسلمان بھائی سے مسکرکر ملنا اسے دلی سکون پہنچاناہے،
یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1833]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
 الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1261  
معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو
«وعن ابي ذر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا تحقرن من المعروف ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق .»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھلے کام کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو۔ خواہ اپنے بھائی سے کشادہ چہرے سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1261]
تخریج:
[مسلم البر والصلة 6690] ،
[تحفة الاشراف 175/5]

فوائد:
نیکی کا کوئی بھی کام معمولی نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ» [2-البقرة:215]
اور تم جو بھلائی بھی کرو اللہ تعالیٰ اسے جاننے والا ہے۔
اور فرمایا:
«فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلة:7]
پس جو شخص ایک ذرے کے برابر بھلائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا۔
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6690
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے فرمایا:"کسی نیکی کو کم تر (حقیر)خیال نہ کرو،اگرچہ اپنے بھائی کو کشادہ چہرے سے ملنا ہی ہو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6690]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چونکہ نیکی،
نیکی کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے،
اس لیے شیطان،
انسان کو نیکی سے محروم رکھنے کے لیے،
اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے تو نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں،
کوئی بڑی نیکی نہیں کی ہے،
تمہیں اس چھوٹی سی نیکی کرنے سے کیا حاصل ہو گا،
حالانکہ بسا اوقات،
اخلاص اور نیک نیتی سے کی گئی چھوٹی سی نیکی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے،
بڑی نیکیوں کا راستہ ہموار کر دیتی ہے،
گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے اور بدی کا راستہ روک لیتی ہے،
جیسا کہ ایک عورت کی کایا،
محض کتے کو پانی پلانے سے پلٹ گئی تھی،
دوسرے کے لیے ایک کانٹے دار شاخ کے راستہ سے ہٹانے نے جنت کی راہ ہموار کی تھی،
اس لیے کسی نیکی کو کم تر سمجھ کر اس سے باز نہیں رہنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6690]