🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب ما جاء في كراهية البيتوتة وفي يده ريح غمر
باب: چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 13034) (موضوع) (سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: موضوع، الضعيفة (5533) ، الروض النضير (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (1476) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1859) إسناده ضعيف جدًا (موضوع)
يعقوب بن الوليد : كذاب (تقدم: 172) ولبعض الحديث شواھد صحيحة منھا الحديث الآتي (الأصل: 1860)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← سهيل بن أبي صالح السمان
صحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة فقيه فاضل
👤←👥يعقوب بن الوليد الأزدي، أبو هلال، أبو يوسف
Newيعقوب بن الوليد الأزدي ← محمد بن أبي ذئب العامري
كذاب خبيث
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← يعقوب بن الوليد الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1860
من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه
جامع الترمذي
1859
الشيطان حساس لحاس فاحذروه على أنفسكم من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه
سنن أبي داود
3852
من نام وفي يده غمر ولم يغسله فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه
سنن ابن ماجه
3297
إذا نام أحدكم وفي يده ريح غمر فلم يغسل يده فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه
المعجم الصغير للطبراني
637
من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1859 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1859
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے،
لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3852
کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3852]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کھانےکے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔
بالخصوص سونے سے پہلے چکنائی کی بو پاکر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے۔
اور یہ کھانا خراب ہوکر کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لئے کھانے کے بعد صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ منہ بھی صاف کر لینا چاہیے۔
جس کا ذکر دوسری احادیث میں ملتا ہے۔
اسلام ہر حالت میں نضافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3852]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3297
رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3297]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں۔

(2)
گھی والا کھانا یا مٹھائی وغیرہ کھا کر بغیر ہاتھ دھوئے سونامنع ہے۔

(3)
اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ چکنائی کی بو کی وجہ سے چیونٹیاں بستر پر آسکتی ہیں ان سے سونے والے کو نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے۔
بعض اوقات چوہا وغیرہ بھی کاٹ لیتا ہے جو خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔

(4)
روز مرہ معاملات میں ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے نقصان کا خطرہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3297]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1860
چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1860]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھولو،
کیوں کہ نہ دھونے سے کھانے کی بوہاتھوں میں باقی رہے گی،
جو جن وشیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی،
اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے،
اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1860]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1859 in Urdu