یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب في غسل اليد من الطعام
باب: کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3852
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3852]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں سو گیا کہ اس کے ہاتھ پر چکنائی لگی رہ گئی اور اس نے اس کو دھویا نہیں اور پھر اسے کچھ ہو گیا تو اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12656)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 48 (1860)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 22 (3296)، مسند احمد (2/263، 537)، سنن الدارمی/الأطعمة 27 (2107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4219)
مشكوة المصابيح (4219)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1860
| من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه |
جامع الترمذي |
1859
| الشيطان حساس لحاس فاحذروه على أنفسكم من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه |
سنن أبي داود |
3852
| من نام وفي يده غمر ولم يغسله فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه |
سنن ابن ماجه |
3297
| إذا نام أحدكم وفي يده ريح غمر فلم يغسل يده فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه |
المعجم الصغير للطبراني |
637
| من بات وفي يده ريح غمر فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3852 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3852
فوائد ومسائل:
فائدہ: کھانےکے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔
بالخصوص سونے سے پہلے چکنائی کی بو پاکر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے۔
اور یہ کھانا خراب ہوکر کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لئے کھانے کے بعد صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ منہ بھی صاف کر لینا چاہیے۔
جس کا ذکر دوسری احادیث میں ملتا ہے۔
اسلام ہر حالت میں نضافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
فائدہ: کھانےکے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔
بالخصوص سونے سے پہلے چکنائی کی بو پاکر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے۔
اور یہ کھانا خراب ہوکر کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لئے کھانے کے بعد صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ منہ بھی صاف کر لینا چاہیے۔
جس کا ذکر دوسری احادیث میں ملتا ہے۔
اسلام ہر حالت میں نضافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3852]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3297
رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3297]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3297]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں۔
(2)
گھی والا کھانا یا مٹھائی وغیرہ کھا کر بغیر ہاتھ دھوئے سونامنع ہے۔
(3)
اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ چکنائی کی بو کی وجہ سے چیونٹیاں بستر پر آسکتی ہیں ان سے سونے والے کو نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے۔
بعض اوقات چوہا وغیرہ بھی کاٹ لیتا ہے جو خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔
(4)
روز مرہ معاملات میں ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے نقصان کا خطرہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں۔
(2)
گھی والا کھانا یا مٹھائی وغیرہ کھا کر بغیر ہاتھ دھوئے سونامنع ہے۔
(3)
اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ چکنائی کی بو کی وجہ سے چیونٹیاں بستر پر آسکتی ہیں ان سے سونے والے کو نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے۔
بعض اوقات چوہا وغیرہ بھی کاٹ لیتا ہے جو خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔
(4)
روز مرہ معاملات میں ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے نقصان کا خطرہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3297]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1859
چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1859]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1859]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے،
لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے،
لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1860
چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1860]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1860]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھولو،
کیوں کہ نہ دھونے سے کھانے کی بوہاتھوں میں باقی رہے گی،
جو جن وشیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی،
اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے،
اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھولو،
کیوں کہ نہ دھونے سے کھانے کی بوہاتھوں میں باقی رہے گی،
جو جن وشیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی،
اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے،
اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1860]
Sunan Abi Dawud Hadith 3852 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي