🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ما جاء في النهى عن الشرب قائما
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَال: " كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبُو الْبَزَرِيِّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُطَارِدٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے،
۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے،
۳- ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 25 (3301)، (تحفة الأشراف: 7821) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس رضی الله عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتر اور اچھا ہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیا جائے گا۔ یعنی جہاں مجبوری ہو وہاں ایسا کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4275)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥يزيد بن عطارد السدوسي، أبو البزري
Newيزيد بن عطارد السدوسي ← عبد الله بن عمر العدوي
مقبول
👤←👥عمران بن حدير السدوسي، أبو عبيدة
Newعمران بن حدير السدوسي ← يزيد بن عطارد السدوسي
ثقة ثقة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمران بن حدير السدوسي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب
Newسلم بن جنادة السوائي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1880
نأكل على عهد رسول الله ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام
سنن ابن ماجه
3301
نأكل ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1880 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1880
اردو حاشہ:
نوٹ:

(سندمیں ابومسلم جذمی مقبول عند المتابعہ ہیں،
ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں،
لیکن حدیث رقم 1879 سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1880]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3301
کھڑے ہو کر کھانے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3301]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحیح مسلم میں حضرت انس، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مروی ہیں جن سے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے بلکہ حضرت ابوسعید خدری نے تو زجر کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ڈانٹا یا سختی سے منع کیا۔
اور حضرت ابو ہریرہ نے یہ فرمان نبوی روایت کیا ہے:
جوشخص بھول جائے (اور کھڑے ہوکر پانی پی لے)
تو اسے چاہیے کہ قے کردے۔

(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے منع اور جواز کی احادیث ذکر کرتے ہوئے علماء کے مختلف اقوال اور دلائل ذکر کرکے اس چیز کو ترجیح دی ہے کہ کھڑے ہوکر پینا مکروہ تنزیہی ہے۔ دیکھیے:
(فتح الباری: 10/ 103، 106)
واللہ اعلم۔

(3)
کھڑے ہو کر کھانا، کھڑے ہو کر پینے سے زیادہ مکروہ ہے۔

(4)
چلتے چلتے کھانا اتفاقی معاملہ ہے جس کے جواز میں شبہ نہیں لیکن آج کل دعوتوں میں کھڑے کھڑے کھانے کا جواز محل نظر ہے کیونکہ اس میں
ایک تو غیروں کی بھونڈی نقالی ہے۔

دوسرے یہ ڈھورڈنگروں والا طریقہ ہے جو انسانوں کے شایان شان نہیں۔

تیسرے یہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔

چوتھے، اس طریقے میں جوافراتفری مچتی ہے اس سے کھانے کا بہت ضیاع ہوتا ہے اس لیے دعوتوں کا یہ طریقہ ناجائز اور متعدد قباحتوں کا حامل ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3301]