سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما جاء في النفقة على البنات والأخوات
باب: لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ، وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا۔“ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے،
۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے (سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان) ایک اور راوی (ایوب بن بشیر) کا اضافہ کیا ہے،
۳- اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1912]
۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے،
۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے (سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان) ایک اور راوی (ایوب بن بشیر) کا اضافہ کیا ہے،
۳- اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 130 (5147) (تحفة الأشراف: 4041)، و یأتي برقم 1916 (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کر دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب 1973، و الادب المفرد باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی 409، والسراج المنیر 2/1049)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1912) إسناده ضعيف
السند منقطع والحديث الآتي (الأصل : 1916) يغني عنه
السند منقطع والحديث الآتي (الأصل : 1916) يغني عنه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1912
| لا يكون لأحدكم ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فيحسن إليهن إلا دخل الجنة |
جامع الترمذي |
1916
| من كان له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات أو ابنتان أو أختان فأحسن صحبتهن واتقى الله فيهن فله الجنة |
سنن أبي داود |
5147
| من عال ثلاث بنات فأدبهن وزوجهن وأحسن إليهن فله الجنة |
مسندالحميدي |
755
| من كان له ثلاث بنات، أو ثلاث أخوات، أو ابنتان، أو أختان، فأحسن صحبتهن، وصبر عليهن، واتقى الله فيهن، دخل الجنة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1912 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1912
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں،
اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے،
جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے،
نیز ملاحظہ ہو:
صحیح الترغیب: 1973،
والأدب المفرد،
باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده،
وتراجع الألباني: 409،
والسراج المنیر: 2/ 1049)
نوٹ:
(اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں،
اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے،
جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے،
نیز ملاحظہ ہو:
صحیح الترغیب: 1973،
والأدب المفرد،
باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده،
وتراجع الألباني: 409،
والسراج المنیر: 2/ 1049)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1912]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1916
لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1916]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1916]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی:
ضعیف ہے۔
نوٹ:
(ملاحظہ ہو:
حدیث رقم: 1912،
وصحیح الترغیب: 1973)
وضاحت: 1 ؎:
یعنی:
ضعیف ہے۔
نوٹ:
(ملاحظہ ہو:
حدیث رقم: 1912،
وصحیح الترغیب: 1973)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1916]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1912 in Urdu
أعشى بن عبد الرحمن المدني ← أبو سعيد الخدري