🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب ما جاء في طلاقة الوجه وحسن البشر
باب: خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے ملنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3085) (وانظر: مسند احمد (3/344، 360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے، بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے، چنانچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 264)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥المنكدر بن محمد التيمي
Newالمنكدر بن محمد التيمي ← محمد بن المنكدر القرشي
مقبول
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← المنكدر بن محمد التيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6021
كل معروف صدقة
جامع الترمذي
1970
كل معروف صدقة من المعروف أن تلقى أخاك بوجه طلق تفرغ من دلوك في إناء أخيك
المعجم الصغير للطبراني
1166
كل معروف صدقة
بلوغ المرام
1260
كل معروف صدقة
المعجم الصغير للطبراني
989
كل معروف صدقة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1970 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1970
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے،
بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے،
چنانچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے،
اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1970]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
 الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1260  
ہر اچھا کام صدقہ ہے
«وعن جابر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏كل معروف صدقة . ‏‏‏‏ اخرجه البخاري.»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر اچھا کام صدقہ ہے۔ بخاري۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1260]
تخریج:
[بخاري 6021]
[تحفة الاشراف 375/2 ]

فوائد:
➊ معروف کا معنی ہے پہچانا ہوا یعنی وہ کام جس کا اچھا ہونا شریعت یا عقل کے لحاظ سے جانی پہچانی بات ہے۔
➋ صدقہ کا اصل تو یہ ہے کہ آدمی خوشی سے اپنے مال سے کچھ اللہ کو خوش کرنے کے لئے دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی صرف مال خرچ کرنے سے ہی نہیں بلکہ دوسری خداداد صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے بھی صدقہ کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ابوموسی اشعری نے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے ذمے صدقہ ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر وہ نہ پائے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اگر وہ یہ کام نہ کر سکے یا نہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند مظلوم کی مدد کر دے انہوں نے کہا: اگر وہ یہ کام نہ کرے؟ فرمایا پھر بھلائی کا حکم دے، پوچھا: اگر یہ بھی نہ کرے؟ فرمایا پھر برائی سے باز رہے یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔ [ صحیح بخاری 2022]
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا تمهارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی ہٹانا تمہارے لئے صدقہ ہے اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔ [ترمذي البر 36] ، [ صحيح الترمذي 1594 ]



[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 91]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1260
نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بھلائی صدقہ ہے۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1260»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأدب، باب كل معروف صدقة، حديث:6021.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے روبرو مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
اور اس کی اچھے کام کی طرف رہنمائی کرنا اور غیر شرعی کام سے روکنا بھی صدقہ ہے۔
اور گم کردہ راہ گیر کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے یہاں تک کہ راستے سے ہڈی اور کانٹے کو اس نیت سے دور کرنا کہ راہ چلتے مسافر کے لیے باعث اذیت و تکلیف ہو گا‘ صدقہ ہے۔
اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔
(جامع الترمذي‘ البروالصلۃ‘ باب ماجاء في صنائع المعروف‘ حدیث:۱۹۵۶)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1260]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6021
6021. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہر اچھا کام اور اچھی بات صدقہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6021]
حدیث حاشیہ:
(1)
معروف ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقریب الی اللہ اور لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کو شامل ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہر اچھا کام یا اچھی بات معروف ہے جس پر ثواب آخرت مرتب ہوتا ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
نیکی کے کسی بھی کام کو حقیر خیال نہ کرو، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو۔
(صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6690(2626)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے:
اپنے ڈول سے کسی دوسرے کے برتن میں پانی ڈالنا بھی معروف نیکی ہے۔
(جامع الترمذي، البروالصلة، حدیث: 1970) (2)
احادیث میں اچھے کاموں اور اچھی باتوں کو صدقے سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6021]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1970 in Urdu