🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ
باب: اخلاق حسنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2004
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ "، وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: " الْفَمُ وَالْفَرْجُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 29 (4246) (تحفة الأشراف: 14847)، و مسند احمد (2/291، 392، 442) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اللہ کا خوف اور اچھے اخلاق جس کے اندر پائے جائیں اس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے، اسی طرح جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کر سکے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے، کیونکہ دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے، ہر طرح کی برائی کا صدور انہیں سے ہوتا ہے، اس لیے جس نے ان دونوں کی حفاظت کی وہ خوش نصیب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
14555

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥يزيد بن عبد الرحمن الأودي، أبو داود
Newيزيد بن عبد الرحمن الأودي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إدريس بن يزيد الأودي، أبو عبد الله
Newإدريس بن يزيد الأودي ← يزيد بن عبد الرحمن الأودي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إدريس الأودي، أبو محمد
Newعبد الله بن إدريس الأودي ← إدريس بن يزيد الأودي
ثقة حجة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن إدريس الأودي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2004
أكثر ما يدخل الناس الجنة فقال تقوى الله حسن الخلق أكثر ما يدخل الناس النار فقال الفم الفرج
سنن ابن ماجه
4246
أكثر ما يدخل الجنة قال التقوى حسن الخلق أكثر ما يدخل النار قال الأجوفان الفم الفرج
بلوغ المرام
1327
أكثر ما يدخل الجنة تقوى الله وحسن الخلق
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2004 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2004
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ کا خوف اور اچھے اخلاق جس کے اندر پائے جائیں اس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے،
اسی طرح جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کرسکے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے،
کیوں کہ دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے،
ہر طرح کی برائی کا صدور انہیں سے ہوتا ہے،
اس لیے جس نے ان دونوں کی حفاظت کی وہ خوش نصیب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2004]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1327
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو چیز اکثر جنت میں جانے کا سبب بنے گی وہ اللہ کا ڈر اور حسن خلق ہے۔“ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1327»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، البر والصلة، باب ما جاء في حسن الخلق، حديث:2004، والحاكم:4 /324.»
تشریح:
1.اس حدیث میں تقویٰ اور حسن خلق اختیار کرنے والوں کو دخول جنت کا مژدہ اور خوشخبری سنائی گئی ہے۔
2. تقویٰ کے معنی ہیں: اوامر پر عمل کرنا اور منہیات و نواہی سے رک جانا۔
اور حسن خلق‘ اچھے عمل و کردار کا نام ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں تقویٰ اور حسن خلق کا کیا مقام و مرتبہ ہے اور اس کی کتنی اہمیت و فضیلت ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جنت مخلوق ہے اور موجود ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1327]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4246
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام لوگوں کو زیادہ تر جنت میں داخل کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تقویٰ (اللہ تعالیٰ کا خوف) اور حسن خلق (اچھے اخلاق)“، اور پوچھا گیا: کون سے کام زیادہ تر آدمی کو جہنم میں لے جائیں گے؟ فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4246]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تقویٰ اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے کا نام ہے۔
اور خوش اخلاقی انسانوں پر ظلم وزیادتی کرنے سے اور بُرا سلوک کرنے سے باز رکھتی ہے۔
اس طرح تقویٰ سے حقوق اللہ صحیح ادا ہوتے ہیں۔
اور خوش اخلاقی سے حقوق العباد، ان دونوں کی ادایئگی یقیناً جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

(3)
منہ کے گناہوں میں حرام رزق کھانا بھی ہے۔
جس کی وجہ سے نیکیاں قبول نہیں ہوتیں۔
اور زبان کے گناہ بھی مثلا جھوٹ غیبت گالی گلوچ وغیرہ۔
جن سے لوگوں میں فساد پیدا ہوتا اور بڑھتا ہے۔
یہ دونو ں قسم کے گناہ بڑے گناہ ہیں۔

(4)
شرم گاہ کا گناہ زنا ہے۔
جوکبیرہ گناہ ہے۔
اور معاشرے میں بے شمارخرابیاں پیدا کرنے کاباعث ہے۔
زبان کے گناہ (غیر محرم سے ناجائز بات چیت وغیرہ)
آنکھ کے گناہ (نا محرم کو دیکھنا)
ہاتھ کے گناہ (نا محرم کو چھونا یا خط وغیرہ لکھنا او ر فون کرنا)
پاؤں کے گناہ (بدکاری کے لئے چل کے جانا)
وغیرہ سب اسی بڑے گناہ کے لئے کئے جاتے ہیں۔
جن کی وجہ سے انسان جہنم میں پہنچ جاتاہے۔

(4)
منہ اور شرم گاہ کے گناہوں سے بچنے والے کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسرے گناہوں سے بھی بچ جائےگا۔
اور جنت میں چلاجائےگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4246]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2004 in Urdu