🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب ما جاء في ذي الوجهين
باب: دو رخے شخص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2025
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہو گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس اور عمار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 1 (3494)، والأدب 52 (6058)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 48 (2526)، سنن ابی داود/ الأدب 39 (4872) (تحفة الأشراف: 12538)، و مسند احمد (2/455) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیرخواہ اور ساتھی ہوں اور دوسرے کا مخالف ہوں، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح صحيح الجامع (2226)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6058
تجد من شر الناس يوم القيامة عند الله ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
صحيح البخاري
7179
شر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
صحيح مسلم
6632
تجدون من شر الناس ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
صحيح مسلم
6632
شر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
صحيح مسلم
6631
شر الناس ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
جامع الترمذي
2025
شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين
سنن أبي داود
4872
شر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
مسندالحميدي
1074
الناس تبع لقريش في هذا الشأن، مسلمهم تبع لمسلمهم، وكافرهم تبع لكافرهم
مسندالحميدي
1075
تجدون الناس معادن، فخيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا
مسندالحميدي
1166
تجدون من شر الناس ذا الوجهين
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2025 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2025
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیر خواہ اور ساتھی ہوں اوردوسرے کا مخالف ہوں،
لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2025]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1074
1074- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: لوگ اس (حکومت کے) معاملے میں قریش کے تابع ہوں گے، مسلمان لوگ، مسلمان قریش کے تابع ہوں گے اور کافر لوگ، کافر قریش کے تابع ہوں گے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1074]
فائدہ:
اس حدیث میں قریش کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1073]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1075
1075- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم لوگوں کو معدن کی طرح پاؤ گے، جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترتھے وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے، جب کہ انہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل ہوجائے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1075]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دین کی سمجھ انسان کو ممتاز کرتی ہے، دین میں نقابت قرآن و حد یث کی سمجھ ہے نہ کہ فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ حنبلی اور فقہ مالکی۔
یہاں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو برتری ملی اس کی سب سے بڑی وجہ قرآن و حدیث میں فقاہت تھی۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1075]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1166
1166- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا دوغلے شخص کو پاؤ گے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1166]
فائدہ:
اس حدیث میں دوزخ والوں کی برائی بیان کی جا رہی ہے کہ دنیا میں تو لوگ بھی اچھے کو برا اور برے کو اچھا کہہ دیتے ہیں لیکن یہ برے نہیں ہے، حقیقت میں برے وہ ہیں جن کو اللہ نے نعمتوں والی جنت کی بجائے صعوبتوں والی جہنم کا وارث بنا دیا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1164]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6058
6058. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن لوگوں میں اللہ کے ہاں بدتر اس شخص کو پاؤ گے جو دو رخا ہوگا۔ جو ان لوگوں کے پاس ایک منہ سے آتا ہے اور ان کے پاس دوسرے منہ سے آتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6058]
حدیث حاشیہ:
ہر جگہ لگی لپٹی بات کہتا ہے۔
دو رخا آدمی وہ ہے کہ ہر فریق سے ملا رہے۔
جس کی صحبت میں جائے ان کی سی کہے۔
یعنی رکابی مذہب والا (با مسلمان اللہ اللہ با برہمن رام رام)
قال القرطبي إنما کان ذوالوجھین شر الناس لأن حاله حال المنافق (فتح)
یعنی منہ دیکھی بات کرنے والا بد ترین آدمی ہے اس لئے کہ اس کا منافق جیسا حال ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6058]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7179
7179. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ نے فرمایا: بلاشبہ لوگوں میں بد ترین وہ شخص ہے جو دورخا ہو، ان کے ساتھ ایک بات کرتا ہے تو دوسروں کے ساتھ اور بات کرتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7179]
حدیث حاشیہ:
منہ دیکھی بات کرنا اچھے لوگوں کا شیوہ نہیں ایسے لوگ سب کی نظروں میں غیرمعتبر ہو جاتے ہیں اور ان کا کوئی مقام نہیں رہتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7179]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6058
6058. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن لوگوں میں اللہ کے ہاں بدتر اس شخص کو پاؤ گے جو دو رخا ہوگا۔ جو ان لوگوں کے پاس ایک منہ سے آتا ہے اور ان کے پاس دوسرے منہ سے آتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6058]
حدیث حاشیہ:
(1)
دو رخا وہ آدمی ہے جو ہر فریق کی ہاں میں ہاں ملانے کا عادی ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے:
با مسلمان الله الله بابر همن رام رام۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص کے دنیا میں دوچہرے ہوں گے قیامت کے دن اس کی دو زبانیں آگ کی ہوں گی۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4873) (2)
اس قسم کے لوگ اپنی سمجھ میں بڑے عقلمند بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے ابن الوقت لوگوں کو قرآنی اصطلاح میں منافق کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ان کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔
حدیث کے مطابق قرآن میں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
یہ کفر اور ایمان کے درمیان لٹک رہے ہیں، نہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے۔
(النساء4: 143)
بہرحال یہ لوگ انتہائی بزدل اور اخلاقی پستی کا شکار ہوتے ہیں۔
اگر کوئی آدمی اصلاح کی نیت سے فریقین کے پاس آتا جاتا ہے تو وہ قابل مذمت نہیں بلکہ وہ نیک لوگوں میں سے ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6058]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7179
7179. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ نے فرمایا: بلاشبہ لوگوں میں بد ترین وہ شخص ہے جو دورخا ہو، ان کے ساتھ ایک بات کرتا ہے تو دوسروں کے ساتھ اور بات کرتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7179]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں منافقانہ رویہ بیان ہوا ہے کہ مسلمانوں سے کہتے ہیں:
ہم مومن ہیں اور ان سے ایمانی باتیں کرتے ہیں اور جب کافروں کے پاس آتے ہیں تو ان کی ہم نوائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں سے مذاق کرتے ہیں۔
حدیث میں ایسے لوگوں کو بدترین کہا گیا ہے۔
ایسا کرنا اچھے لوگوں کا شیوہ اور طور طریقہ نہیں ہے۔
ایسے لوگ سب کی نظروں سے گرجاتے ہیں اور معاشرے میں ان کا کوئی مقام واحترام نہیں رہتا۔
بہرحال اسلام نےدورخے پن کی بہت مذمت کی ہے، ایک مسلمان کو ہرحال میں اس سے بچنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7179]