🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما جاء لا وصية لوارث
باب: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى نَاقَتِهِ، وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: وَسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا أُبَالِي بِحَدِيثِ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، فَوَثَّقَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ، ثُمَّ رَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا (ولد الزنا) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا، اور زانی رجم کا مستحق ہے، جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا (غلام) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں،
۳-
امام ترمذی کہتے ہیں:
میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الوصايا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الوصایا 5 (3671)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2712) (تحفة الأشراف: 10731)، و مسند احمد (4/186)، 187، 238، 239) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2712)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن خارجة الجمحيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن غنم الأشعري
Newعبد الرحمن بن غنم الأشعري ← عمرو بن خارجة الجمحي
مختلف في صحبته
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد
Newشهر بن حوشب الأشعري ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري
صدوق كثير الإرسال والأوهام
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← شهر بن حوشب الأشعري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2121
الله أعطى كل ذي حق حقه لا وصية لوارث الولد للفراش وللعاهر الحجر من ادعى إلى غير أبيه انتمى إلى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا
سنن ابن ماجه
2712
الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث لا يجوز لوارث وصية الولد للفراش للعاهر الحجر من ادعى إلى غير أبيه تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل أو قال عدل ولا صرف
سنن النسائى الصغرى
3671
الله قد أعطى كل ذي حق حقه لا وصية لوارث
سنن النسائى الصغرى
3672
الله قد قسم لكل إنسان قسمه من الميراث فلا تجوز لوارث وصية
بلوغ المرام
24
خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بمنى وهو على راحلته،‏‏‏‏ ولعابها يسيل على كتفي