سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في الإيمان بالقدر خيره وشره
باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں،
۳- اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2144]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں،
۳- اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2614) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2439)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2144
| لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وأن ما أخطأه لم يكن ليصيبه |
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري