🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب ما جاء في قول النبي صلى الله عليه وسلم بعثت أنا والساعة كهاتين يعني السبابة والوسطى
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11262) (ضعیف) (سند میں ”مجالد بن سعید“ ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے، گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے، اس کا یہ بھی مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5513)
قال الشيخ زبير على زئي:(2213) إسناده ضعيف
مجالد ضعيف (تقدم: 653) وعبيدة الأسود مدلس (طبقات المدلسين : 3/86) وعنعن وروي أحمد (348/5) بلفظ : ”بعثت أنا والساعة جميعاً ،إن كادت لتسبقني“ وسنده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المستورد بن شداد القرشيصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← المستورد بن شداد القرشي
ثقة
👤←👥مجالد بن سعيد الهمداني، أبو سعيد، أبو عمير، أبو عمرو
Newمجالد بن سعيد الهمداني ← قيس بن أبي حازم البجلي
ضعيف الحديث
👤←👥عبيدة بن الأسود الهمداني
Newعبيدة بن الأسود الهمداني ← مجالد بن سعيد الهمداني
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
Newيحيى بن عبد الرحمن الأرحبي ← عبيدة بن الأسود الهمداني
صدوق ربما يخطئ
👤←👥محمد بن عمر الصائدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمر الصائدي ← يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2213
بعثت في نفس الساعة فسبقتها كما سبقت هذه هذه لأصبعيه السبابة والوسطى
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2213 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2213
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے،
گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے،
جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے،
اس کا یہ بھی مطلب بیان کیاجاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔

نوٹ:

(سند میں (مجالد بن سعید) ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2213]