الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب ما جاء في فضل العشاء والفجر في الجماعة
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جندب بن سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 46 (657)، (تحفة الأشراف: 3255)، مسند احمد (4/312، 313) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: بھرپور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کر لو، یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی، ان شاءاللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 141 و 163)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← جندب بن عبد الله البجلي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر داود بن أبي هند القشيري ← الحسن البصري | ثقة متقن | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← داود بن أبي هند القشيري | ثقة متقن | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1493
| من صلى الصبح فهو في ذمة الله فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فيدركه فيكبه في نار جهنم |
صحيح مسلم |
1494
| من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فإنه من يطلبه من ذمته بشيء يدركه ثم يكبه على وجهه في نار جهنم |
جامع الترمذي |
222
| من صلى الصبح فهو في ذمة الله فلا تخفروا الله في ذمته |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 222 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 222
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی:
بھر پور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کر لو،
یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی،
ان شاء اللہ۔
1؎:
یعنی:
بھر پور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کر لو،
یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی،
ان شاء اللہ۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 222]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1493
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ کی امان یا ذمہ داری میں ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے اپنی پناہ میں آنے والے کے بارے میں مطالبہ نہ کرے، (اگر کسی نے اس کی پناہ میں آنے والے کو ستایا اور اس نے اس کا مؤاخذہ کیا) تو وہ اس کو پکڑ کر جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1493]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فِي ذِمَّةِالله:
وہ اللہ کی امان اور پناہ میں ہے یا اس کی ضمانت اور ذمہ داری میں ہے۔
(2)
مَن يَّطْلُبُهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ:
اگر کسی نے اس کی پناہ اور ذمہ داری کو کچھ نقصان پہنچایا يا پناہ میں آنے والے کو کچھ تکلیف پہنچا کر اس کی امان میں دخل اندازی کی۔
(3)
يُدْرِكُهُ:
وہ اس کو پکڑ لے گا،
وہ مؤاخذہ سے بچ نہیں سکے گا۔
مفردات الحدیث:
(1)
فِي ذِمَّةِالله:
وہ اللہ کی امان اور پناہ میں ہے یا اس کی ضمانت اور ذمہ داری میں ہے۔
(2)
مَن يَّطْلُبُهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ:
اگر کسی نے اس کی پناہ اور ذمہ داری کو کچھ نقصان پہنچایا يا پناہ میں آنے والے کو کچھ تکلیف پہنچا کر اس کی امان میں دخل اندازی کی۔
(3)
يُدْرِكُهُ:
وہ اس کو پکڑ لے گا،
وہ مؤاخذہ سے بچ نہیں سکے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1493]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1494
حضرت جندب قسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز پڑھ لی تو وہ اللہ کے حفظ و امان میں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری میں آنے والے کے بارے میں کچھ بالکل نا کرے کیونکہ وہ جس سے اپنی پناہ کے بارے میں کچھ مطالبہ کرے گا وہ اسے پکڑ لے گا پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1494]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جندب قسری سے مراد جندب بن عکرمہ ہی ہے جو بجلی ہے شاید ان کا قسری قبیلہ سے تعلق ہو یا پڑوس ہو۔
فوائد ومسائل:
جندب قسری سے مراد جندب بن عکرمہ ہی ہے جو بجلی ہے شاید ان کا قسری قبیلہ سے تعلق ہو یا پڑوس ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1494]
الحسن البصري ← جندب بن عبد الله البجلي