🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ، وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ.
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے،
۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 32 (2372) (ضعیف) (سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: **
قال الشيخ زبير على زئي:(2300) إسناده ضعيف
/ د 3599، جه 2372 وانظر الحديث السابق: 2299


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خريم بن الأخرم الأسدي، أبو يحيىصحابي
👤←👥حبيب بن النعمان الأسدي
Newحبيب بن النعمان الأسدي ← خريم بن الأخرم الأسدي
مقبول
👤←👥عبد الملك العصفري
Newعبد الملك العصفري ← حبيب بن النعمان الأسدي
مجهول
👤←👥سفيان بن زياد العصفري، أبو الورقاء
Newسفيان بن زياد العصفري ← عبد الملك العصفري
ثقة
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبيد الطنافسي ← سفيان بن زياد العصفري
ثقة يحفظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← محمد بن عبيد الطنافسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2300
عدلت شهادة الزور بالشرك بالله
سنن أبي داود
3599
عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله
سنن ابن ماجه
2372
عدلت شهادة الزور بالإشراك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2300 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2300
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2300]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3599
جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان۔
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی: «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» ”بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر“ (سورۃ الحج: ۳۰)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3599]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت اگرچہ سندا ضعیف ہے۔
لیکن جھوٹ اور جھوٹی گواہی کی مذمت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
جھوٹی گواہی کبائر میں شمار ہوتی ہے۔
(صحیح البخاري، الشھادات، حدیث: 2653)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3599]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2372
جھوٹی گواہی دینے کا بیان۔
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» ”جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو“ (سورة الحج: ۳۰-۳۱) کی تلاوت فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2372]
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہےلیکن یہ بات صحیح ہے کہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس کےبارے میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں۔
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجن تین گناہوں کوکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ قرار دیا ہے وہ اللہ کےساتھ شرک کرنا‘والدین کی نافرمانی اورجھوٹی گواہی ہیں۔ دیکھیے (صحیح البخاري، الشھادات، باب ماقيل فی شھادۃ الزور، حدیث: 2653، 2654)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2372]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2300 in Urdu