سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب ما جاء في حفظ اللسان
باب: زبان کی حفاظت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ , قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ , فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4037) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکز دل ہے، توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کو جسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مجازا اسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا، ورنہ مرکز دل ہے نہ کہ زبان۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (4838 / التحقيق الثانى)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله سعيد بن جبير الأسدي ← أبو سعيد الخدري | ثقة ثبت | |
👤←👥أبو الصهباء الكوفي، أبو الصهباء أبو الصهباء الكوفي ← سعيد بن جبير الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أبو الصهباء الكوفي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن موسى الحرشي، أبو عبد الله محمد بن موسى الحرشي ← حماد بن زيد الأزدي | مقبول |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2407
| اتق الله فينا فإن استقمت استقمنا وإن اعوججت اعوججنا |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2407 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2407
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھارکا مرکز بتایا گیا ہے،
حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکزدل ہے،
توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کوجسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے،
اس لیے مجازاًاسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا،
ورنہ مرکزدل ہے نہ کہ زبان۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھارکا مرکز بتایا گیا ہے،
حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکزدل ہے،
توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کوجسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے،
اس لیے مجازاًاسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا،
ورنہ مرکزدل ہے نہ کہ زبان۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2407]
حدیث نمبر: 2407M
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ , وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
اس سند سے ابو سعید خدری سے موقوفا اسی جیسی حدیث مروی ہے اور یہ روایت محمد بن موسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس حدیث کو ہم صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں اس حدیث کو حماد بن زید سے کئی راویوں نے روایت کیا ہے، لیکن یہ ساری روایتیں غیر مرفوع ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2407M]
اس حدیث کو ہم صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں اس حدیث کو حماد بن زید سے کئی راویوں نے روایت کیا ہے، لیکن یہ ساری روایتیں غیر مرفوع ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2407M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (4838 / التحقيق الثانى)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري هناد بن السري التميمي ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة |
حدیث نمبر: 2407M
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَحْسِبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر صالح بن عبداللہ نے شک کے ساتھ روایت کی ہے کہ شاید ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، پھر اسی طرح سے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2407M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج (م2): انظر رقم 2407 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (4838 / التحقيق الثانى)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله سعيد بن جبير الأسدي ← أبو سعيد الخدري | ثقة ثبت | |
👤←👥أبو الصهباء الكوفي، أبو الصهباء أبو الصهباء الكوفي ← سعيد بن جبير الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أبو الصهباء الكوفي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥صالح بن عبد الله الباهلي، أبو عبد الله صالح بن عبد الله الباهلي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2407 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← أبو سعيد الخدري