🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء في شأن الحساب والقصاص
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا الْمِقْدَادُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوِ اثْنَيْنِ "، قَالَ سُلَيْمٌ: لَا أَدْرِي أَيَّ الْمِيلَيْنِ عَنَى، أَمَسَافَة الْأَرْضِ، أَمِ الْمِيلُ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ، قَالَ: " فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حِقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ أَيْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ.
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، (زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی)، پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام لگی ہوتی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 15 (2864) (تحفة الأشراف: 11543)، و مسند احمد (6/3) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سائنسی تحقیق کے مطابق سورج زمین سے نو کروڑ میل کے فاصلے پر ہے، قیامت کے دن جب یہ صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہو گا تو اس کی حرارت کا کیا عالم ہو گا؟ یہ اللہ کے علاوہ کون زیادہ جان سکتا ہے، انسان کا حال پسینے میں یہ ہو گا، اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1382)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقداد بن الأسود الكندي، أبو الأسود، أبو معبد، أبو عمروصحابي
👤←👥سليم بن عامر الكلاعي، أبو يحيى
Newسليم بن عامر الكلاعي ← المقداد بن الأسود الكندي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← سليم بن عامر الكلاعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7206
تدنى الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق فمنهم من يكون إلى كعبيه ومنهم من يكون إلى ركبتيه ومنهم من يكون إلى
جامع الترمذي
2421
إذا كان يوم القيامة أدنيت الشمس من العباد حتى تكون قيد ميل أو اثنين قال سليم لا أدري أي الميلين عنى أمسافة الأرض أم الميل الذي تكتحل به العين قال فتصهرهم الشمس فيكونون في العرق بقدر أعمالهم فمنهم من يأخذه إلى عقبيه ومنهم من يأخذه إلى ركبتيه ومنهم من يأخ
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2421 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2421
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سائنسی تحقیق کے مطابق سورج زمین سے نوکروڑ میل کے فاصلے پر ہے،
قیامت کے دن جب یہ صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا تو اس کی حرارت کا کیا عالم ہوگا؟ یہ اللہ کے علاوہ کون زیادہ جان سکتا ہے،
انسان کا حال پسینے میں یہ ہوگا،
اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے آمین۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2421]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7206
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے بقدر جائے گا۔"سلیم بن عامر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا میل سے ان کی مراد کیا تھی کیا زمین کی مسافت یا وہ میل جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے آپ نے فرمایا:"لوگ اپنے اعمال کے بقدرپسینہ میں شرابورہوں گے(یعنی جس قدر اعمال زیادہ برے ہوں گے، اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7206]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قیامت میں پیش آنے والے ان واقعات و مناظر کی واقعی اور حقیقی صورت کا صحیح تصور اس دنیا میں مکمل طور پر نہیں کیا جاسکتا،
پورا انکشاف بس اس وقت ہوگا،
جب انسان حقائق سے دوچار ہوگا اور یہ مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے،
کیونکہ آخرت کے امورکودنیاپرقیاس نہیں کیا جاسکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7206]