🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ما جاء في صفة أواني الحوض
باب: حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَحُمِلْتُ عَلَى الْبَرِيدِ , قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ , قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ شَقَّ عَلَى مَرْكَبِي الْبَرِيدُ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَلَّامٍ مَا أَرَدْتُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ وَلَكِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ , عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَ أَبُو سَلَّامٍ: حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ "، قَالَ عُمَرُ: لَكِنِّي نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَفُتِحَ لِيَ السُّدَدُ، وَنَكَحْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ لَا جَرَمَ أَنِّي لَا أَغْسِلُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ وَلَا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ اسْمُهُ: مَمْطُورٌ وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ.
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چنانچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چنانچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان رضی الله عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے اردن والے عمان تک کا فاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، سب سے پہلے اس پر فقراء مہاجرین پہنچیں گے، جن کے سر دھول سے اٹے ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے، جو ناز و نعم عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے جاہ و منزلت کے دروازے کھولے جاتے۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح کیا اور میرے لیے جاہ و منزلت کے دروازے بھی کھولے گئے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اپنے سر کو نہیں دھوتا یہاں تک کہ وہ غبار آلود نہ ہو جائے اور اپنے بدن کے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوتا جب تک کہ میلے نہ ہو جائیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- یہ حدیث معدان بن ابی طلحہ کے واسطے سے «عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے،
۳- ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے، یہ شامی ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 36 (4303) (تحفة الأشراف: 2129) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحہ رقم: 1082)»
قال الشيخ الألباني: صحيح المرفوع منه، ابن ماجة (4303) // صحيح سنن ابن ماجة برقم (3472) ، ضعيف سنن ابن ماجة برقم (937) ، الصحيحة (1082) ، السنة لابن أبي عاصم (707 و 708) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2444) إسناده ضعيف / جه 4303
سنده منقطع، العباس بن سالم لم يسمعه من أبى سلام (انظر سنن ابن ماجه: 4303) وأحاديث مسلم (2301) وابن حبان (الموارد: 2601) وغيرهما تغني عنه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥معدان بن أبي طلحة اليعمري
Newمعدان بن أبي طلحة اليعمري ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newثوبان بن بجدد القرشي ← معدان بن أبي طلحة اليعمري
صحابي
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة يرسل
👤←👥العباس بن سالم اللخمي
Newالعباس بن سالم اللخمي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة
👤←👥محمد بن المهاجر الأشهلي
Newمحمد بن المهاجر الأشهلي ← العباس بن سالم اللخمي
ثقة
👤←👥يحيى بن صالح الوحاظي، أبو زكريا، أبو صالح
Newيحيى بن صالح الوحاظي ← محمد بن المهاجر الأشهلي
ثقة
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن إسماعيل البخاري ← يحيى بن صالح الوحاظي
جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2444
حوضي من عدن إلى عمان البلقاء ماؤه أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل أكاويبه عدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا الدنس ثيابا الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم السدد قال عمر لكني نكحت ا
سنن ابن ماجه
4303
حوضي ما بين عدن إلى أيلة أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل أوانيه كعدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول من يرده علي فقراء المهاجرين الدنس ثيابا والشعث رءوسا الذين لا ينكحون المنعمات ولا يفتح لهم السدد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2444 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2444
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں انقطاع ہے،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1082)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2444]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4303
حوض کوثر کا بیان۔
ابوسلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بلا بھیجا، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا: اے ابو سلام! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیز سواری سے آنا پڑا، میں نے کہا: بیشک، اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین! (ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے)، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تو میں نے چاہا کہ یہ حدیث براہ راست آپ سے سن لوں، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4303]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غریب و گم نام مسلمان اگر نیک ہے تو اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔

(2)
اگر اللہ تعالی دولت دے تو زیب و زینت فخر و مباہات کے بجائے سادگی اختیار کرنا درجا ت کی بلندی کا باعث ہے۔

(3)
دروازے کھولے جانے کا مطلب یہ ھے کہ دنیا میں بلند مقام کی وجہ سے سب لوگ ان کا احترام کرتے ہیں اور جس کے پاس جائیں وہ دروازہ کھول کر ان کا استقبال کرتا ہے۔
۔
جبکہ غریب آدمی سے اس کے بر عکس سلوک ہوتا ہے۔

(4)
میلے پراگندہ با ل رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ مناسب صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھا جائے۔
بلکہ یہ مطلب ھے کہ زیب و زینت میں حد سے زیادہ انہماک نہ ہو۔

(5)
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ خلیفہ ہونے کے باوجود علم حدیث کا اتنا شوق رکھتے تھے کہ جس عالم کے بارے میں انہیں معلوم ہوا کہ اسے کوئی حدیث یاد ہے تو اس سے استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھا۔
مسلمان حکمرانوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

(6)
علمائے کرام کا فرض ہے کہ دین سے محبت کرنے والے حکام کا احترام کریں۔
اور ان کے احکام کی تعمیل کی پوری کوشش کریں
(7)
عمر بن عبدالعزیز ؒ نے یہ حکم نہیں بھیجا تھا کہ فورا پہنچیں لیکن ابو سلام ؒ نے اطاعت امیر میں مشقت اٹھا کر جلد از جلد پہنچنے کی کوشش کی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4303]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2444 in Urdu