سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب ما جاء في صفة الحوض
باب: حوض کوثر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَيْزَكَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا، وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ سَمُرَةَ وَهُوَ أَصَحُّ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہو گا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر (اللہ کے فضل سے) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2443]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4603) (صحیح) (سند میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: 1589)»
قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج الطحاية (197) ، المشكاة (5594) ، الصحيحة (1589)
قال الشيخ زبير على زئي:(2443) إسناده ضعيف
سعيد بن بشير : ضعيف (د 2580) وللحديث شواهد ضعيفة
سعيد بن بشير : ضعيف (د 2580) وللحديث شواهد ضعيفة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن بشير الأزدي، أبو هشام، أبو سلمة، أبو عبد الرحمن سعيد بن بشير الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن بكار العاملي، أبو عبد الله محمد بن بكار العاملي ← سعيد بن بشير الأزدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أحمد بن نيزك الطوسي، أبو جعفر أحمد بن نيزك الطوسي ← محمد بن بكار العاملي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2443
| لكل نبي حوضا وإنهم يتباهون أيهم أكثر واردة وإني أرجو أن أكون أكثرهم واردة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2443 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2443
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں،
اورحسن بصری مدلس،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1589)
نوٹ:
(سند میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں،
اورحسن بصری مدلس،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1589)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2443]
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري