سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء في فضل الذي يبدأ بالسلام
باب: سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ؟ فَقَالَ: " أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , قَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ۱؎۔ (وہ پہل کرے گا) امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2694]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4869) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اور تعلق ہو گا اس میں تواضع اور خاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4646) ، تخريج الكلم الطيب (198)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2694
| الرجلان يلتقيان أيهما يبدأ بالسلام فقال أولاهما بالله |
سنن أبي داود |
5197
| أولى الناس بالله من بدأهم بالسلام |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2694 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2694
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اورتعلق ہو گا اس میں تو اضع اورخاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی،
اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اورتعلق ہو گا اس میں تو اضع اورخاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی،
اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2694]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5197
سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5197]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5197]
فوائد ومسائل:
سلام کہنے میں ابتدا کرنے کی بہت فضلیت ہے، مگردرج ذیل آداب کو پیش نظر رکھا جائے۔
سلام کہنے میں ابتدا کرنے کی بہت فضلیت ہے، مگردرج ذیل آداب کو پیش نظر رکھا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5197]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2694 in Urdu
سليم بن عامر الكلاعي ← صدي بن عجلان الباهلي