🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما يقول العاطس إذا عطس
باب: آدمی کو جب چھینک آئے تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَضْرَمِيٌّ مَوْلَى آلِ الْجَارُودِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا، أَنْ نَقُولَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» یعنی تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: کہنے کو تو میں بھی «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» کہہ سکتا ہوں ۱؎ لیکن اس طرح کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھلایا ہے۔ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، کہیں ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف زیاد بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7648) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دوسرے مقامات پر ایسا کہا کرتا ہوں لیکن اس کا یوں کہنے کا یہ مقام نہیں ہے، بلکہ اس جگہ اللہ کے رسول نے ہمیں «الحمد لله على كل حال» کہنے کا حکم دیا ہے۔
۲؎: صحیح بخاری (کتاب الادب باب ۱۲۶) میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں صرف «الحمد لله» کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے متعدد طرق سے یہ ثابت کیا ہے کہ حمد و ثنا کے جو بھی الفاظ اس بابت ثابت ہیں کہے جا سکتے ہیں جیسے «الحمد لله رب العالمين» کا اضافہ بھی ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (4744) ، الإرواء (3 / 245)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥حضرمي بن عجلان
Newحضرمي بن عجلان ← نافع مولى ابن عمر
مقبول
👤←👥زياد بن الربيع اليحمدي، أبو خداش
Newزياد بن الربيع اليحمدي ← حضرمي بن عجلان
ثقة
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس
Newحميد بن مسعدة السامي ← زياد بن الربيع اليحمدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2738
رجلا عطس إلى جنب ابن عمر فقال الحمد لله والسلام على رسول الله قال ابن عمر وأنا أقول الحمد لله والسلام على رسول الله وليس هكذا علمنا رسول الله علمنا أن نقول الحمد لله على كل حال
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2738 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2738
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی دوسرے مقامات پر ایسا کہا کرتا ہوں لیکن اس کا یوں کہنے کا یہ مقام نہیں ہے،
بلکہ اس جگہ اللہ کے رسول نے ہمیں (الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ) کہنے کا حکم دیا ہے۔

2؎:
صحیح بخاری (کتاب الأدب،
باب: 126) میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف (اَلْحَمْدُ لِله) کا ذکر ہے،
حافظ ابن حجرنے متعدد طرق سے یہ ثابت کیا ہے کہ حمدوثنا کے جو بھی الفاظ اس بابت ثابت ہیں کہے جا سکتے ہیں جیسے ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ کا اضافہ بھی ثابت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2738]