🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. باب ما جاء في الاعتماد في السجود
باب: سجدے میں ٹیک لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اشْتَكَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا، فَقَالَ: " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ اللَّيْثِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں (تکلیف کی) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے (ان پر ٹیک لگا کر) مدد لے لیا کرو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے (یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سمى عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلى الله عليه وسلم» (اسی طرح) روایت کی ہے، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 159 (902)، (تحفة الأشراف: 12580)، مسند احمد (2/340) (ضعیف) (محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواة نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: ضعیف سنن ابی داود: ج9/رقم: 832)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ضعيف أبي داود (160) // عندنا في " ضعيف أبي داود " برقم (192 / 902) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 902

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن أبي عياش الزرقي، أبو سلمةثقة
👤←👥سمي القرشي، أبو عبد الله
Newسمي القرشي ← النعمان بن أبي عياش الزرقي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سمي القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سمي القرشي، أبو عبد الله
Newسمي القرشي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سمي القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
286
استعينوا بالركب
سنن أبي داود
902
استعينوا بالركب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 286 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 286
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
نوٹ:
(محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواۃ نے مرسلاً ذکر کیا ہے،
اور ابو ہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا،
اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے،
دیکھئے:
ضعیف سنن ابی داود:
ج9/رقم: 832)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 286]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 902
ضرورت کے وقت سجدہ میں کہنیوں کو زانو پر لگانے کی اجازت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 902]
902۔ اردو حاشیہ:
بیمار اور ضعیف کے لئے سجدوں میں رانوں کا سہارا لینا مباح ہے کیونکہ وہ معذورہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 902]