سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب ما جاء أنه يخفي التشهد
باب: تشہد آہستہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
۱- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 185 (986)، (تحفة الأشراف: 9172) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب صحابی «من السنة كذا أو السنة كذا» کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (906) ، صفة الصلاة // 142 //
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 291 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 291
اردو حاشہ:
1؎:
جب صحابی ((مِنَ السُّنَّةِ كَذَا أَوِ السُّنَةُ كَذَا)) کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
1؎:
جب صحابی ((مِنَ السُّنَّةِ كَذَا أَوِ السُّنَةُ كَذَا)) کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 291]
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود