🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ومن سورة البقرة
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ، فَنَزَلَتْ " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام (مقام ابراہیم) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو (البقرہ: ۱۲۵) نازل ہوئی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 32 (402)، وتفسیر البقرة 9 (4483)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1009) (تحفة الأشراف: 10409) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے، لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔
۲؎: مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← حميد بن أبي حميد الطويل
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← الحجاج بن المنهال الأنماطي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
402
لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى
صحيح البخاري
4790
يدخل عليك البر والفاجر فلو أمرت أمهات المؤمنين بالحجاب فأنزل الله آية الحجاب
جامع الترمذي
2959
لو صلينا خلف المقام فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى
جامع الترمذي
2960
لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2959 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2959
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو (البقرہ: 125) اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے،
لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں،
کوئی حرج نہیں ہے۔

2؎:
مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2959]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 402
402. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت عمر ؓ نے فرمایا: مجھے اپنے پروردگار سے تین باتوں میں موافقت کا شرف حاصل ہوا ہے: ایک مرتبہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کاش مقام ابراہیم ہماری جائے نماز ہوتا، تو یہ آیت نازل ہوئی: مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ آیت حجاب بھی اسی طرح نازل ہوئی کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دے دیں کیونکہ ہر نیک و بد ان سے گفتگو کرتا ہے، تو آیت حجاب نازل ہوئی۔ (ایک دفعہ ایسا ہوا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے باہمی رشک و رقابت کی وجہ سے آپ کے خلاف اتفاق کر لیا تو میں نے ان سے کہا: بعید نہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار انہیں تمہارے بدلے میں تم سے بہتر بیویاں عطا فر دے۔ پھر یہی آیت (سورہ تحریم: 5) نازل ہوئی۔ (راوی حدیث) ابن ابی مریم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید طویل نے بیان کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:402]
حدیث حاشیہ:
اس سند کے بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ حمید کاسماع انس ؓ سے معلوم ہوجائے اوریحییٰ بن ایوب اگرچہ ضعیف ہے مگرامام بخاری ؒ نے ان کی روایت بطور متابعت قبول فرمائی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 402]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:402
402. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت عمر ؓ نے فرمایا: مجھے اپنے پروردگار سے تین باتوں میں موافقت کا شرف حاصل ہوا ہے: ایک مرتبہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کاش مقام ابراہیم ہماری جائے نماز ہوتا، تو یہ آیت نازل ہوئی: مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ آیت حجاب بھی اسی طرح نازل ہوئی کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دے دیں کیونکہ ہر نیک و بد ان سے گفتگو کرتا ہے، تو آیت حجاب نازل ہوئی۔ (ایک دفعہ ایسا ہوا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے باہمی رشک و رقابت کی وجہ سے آپ کے خلاف اتفاق کر لیا تو میں نے ان سے کہا: بعید نہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار انہیں تمہارے بدلے میں تم سے بہتر بیویاں عطا فر دے۔ پھر یہی آیت (سورہ تحریم: 5) نازل ہوئی۔ (راوی حدیث) ابن ابی مریم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید طویل نے بیان کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:402]
حدیث حاشیہ:

حافظ ابن حجر ؒ نے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت بایں الفاظ ذکر کی ہے کہ آیت مذکور میں"مقام ابراهیم" سے مرادکعبہ شریف ہے۔
جیسا کہ اس کی تفسیر میں یہ قول نقل ہوا ہے اور یہ باب بھی قبلے کے متعلق ہے۔
یا اس سے مراد کل حرم ہے۔
اس صورت میں من تبیضیہ ہوگا اور مصلی سے مرادقبلہ ہے جو آفاق والوں کے حق میں ہے۔
یا اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم ؑ نے کھڑے ہوکر بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔
اس صورت میں مطابقت قبلہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ متعلقات قبلہ کے لحاظ سے ہوگی۔
(فتح الباري: 655/1)
علامہ کرمانی ؒ نے امام خطابی ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھاکہ جس پتھر پر حضرت ابراہیم ؑ کے پاؤں کے نشانات ثبت ہیں، اسے قبلے کے سامنے جائے نماز بنایا جائے، یعنی امام اس کے پاس کھڑا ہوتو اس خواہش کے احترام میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
(شرح الکرماني: 67/4)

حمید طویل نے حضرت انس ؓ سے یہ روایت بصیغہ عَن بیان کی ہے۔
اس انداز میں تدلیس کا شبہ تھا۔
اس کے ازالے کے لیے امام بخاری ؒ نے ابن ابی مریم کا طریق بیان کیا ہے جس میں حمید طویل اپنے سماع کی صراحت کرتے ہوئے حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 655/1)
امام بخاری ؒ کا اس مقام پر یہ روایت لانے کا اتنا ہی مقصد تھا جوہم نے بیان کردیا ہے۔
اس حدیث کی مکمل تشریح کتاب المناقب میں بیان ہو گی۔
وہاں ہم ثابت کریں گے کہ حضرت عمر ؓ واقعی اس امت میں فتن ومحن کی روک تھام کے لیے ایک دروازے کی حیثیت رکھتے تھے۔
بدقسمتی سے اس دروازے کو بزور توڑا گیا۔
اس دروازے کو توڑنے کا پس منظر، پیش منظر اور تہ منظر ہم وہاں بیان کریں گے اور ان عوامل ومحرکات سے پردہ اٹھائیں گے جو اس واقعہ جانکاہ میں کارفرماتھے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔

واضح رہے کہ حضر ت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کبھی بھی کوئی ایساحادثہ پیش نہیں آیا جس میں دوسروں نے ایک رائے دی ہو اور حضرت عمر ؓ نے کسی دوسری رائے کا اظہار کیا ہو مگر قرآن مجید حضرت عمر ؓ کی رائے کے مطابق اترتا۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3682)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت موافقت حضرت عمر ؓ کے حق میں ہے، لیکن نقل کے اعتبار سے تعین کے ساتھ پندرہ چیزوں میں موافقت ہمارے علم میں آئی ہے۔
جسے"موافقات عمر" کا نا م دیا جاسکتاہے۔
(فتح الباري: 654/1)
موافقات عمر کی تشریح بھی کتاب المناقب میں بیان ہوگی۔
إن شاء اللہ۔

بعض اہل علم کی طرف سے امام بخاریؒ پر یہ اعتراض ہوا کہ اس حدیث کو سابق باب میں لانا چاہیے تھا جو اس آیت کے متعلق ہی قائم کیاگیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کا جواب دیا ہے کہ وہاں حدیث ابن عمر ؓ بیان کی ہے جس میں صراحت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کی دورکعت میں مقام ابراہیم کوقبلہ نماز بنایا جبکہ حدیث عمر میں اس قسم کی صراحت نہ تھی، اس لیے اسے یہاں متعلقات قبلہ کے سلسلے میں بیان کیاگیا ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 654۔
655/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 402]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4790
4790. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کے ہاں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے رہتے ہیں (کیا اچھا ہو) اگر آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم دیں، تب اللہ تعالٰی نے آیت حجاب نازل فرمائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4790]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ اپنی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو حکم دیں کہ وہ پردے میں رہا کریں کیونکہ ان سے نیک اور بدسب ہی بلا حجاب ہم کلام ہوتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمائی۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 402)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت غیرت مند تھے۔
انھیں حرم نبوی پر اجنبی لوگوں کی اطلاع پانے اور ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین سے بلا روک ٹوک ہم کلام ہونے سے سخت نفرت تھی۔
انھوں نے صراحت کے ساتھ عرض کردیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں کو پردے میں رکھیں بلکہ انھیں تو یہ بھی ناگوار تھا کہ ان کی شخصیت بھی نظر آئے خواہ وہ باہر ہی کیوں نہ ہوں جس کی صراحت آئندہ کی جائے گی۔
ان شاء اللہ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4790]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2959 in Urdu