🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ومن سورة آل عمران
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: " وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرْنَا، أَنَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ قَالُوا: رَبَّنَا وَمَا نَسْتَزِيدُ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا، ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَمْ يُتْرَكُوا قَالُوا: تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا: تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر (ایک دن) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا: کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ (اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے، بغیر مانگے اور لیے) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة (1887)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 16 (2801) (تحفة الأشراف: 9570)، وسنن الدارمی/الجھاد 19 (2454) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: (حديث مسروق عن عبد الله بن مسعود) صحيح، (حديث أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود الذي فيه زيادة) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (2801)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3011
هل تستزيدون شيئا فأزيدكم قالوا ربنا وما نستزيد ونحن في الجنة نسرح حيث شئنا ثم اطلع إليهم الثانية فقال هل تستزيدون شيئا فأزيدكم فلما رأوا أنهم لم يتركوا قالوا تعيد أرواحنا في أجسادنا حتى نرجع إلى الدنيا فنقتل في سبيلك مرة أخرى
سنن ابن ماجه
2801
أرواحهم كطير خضر تسرح في الجنة في أيها شاءت ثم تأوي إلى قناديل معلقة بالعرش فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم ربك اطلاعة فيقول سلوني ما شئتم قالوا ربنا ماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة في أيها شئنا فلما رأوا أنهم لا يتركون من أن يسألوا قالوا نسألك أن ترد أرواح
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3011 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3011
اردو حاشہ:
نوٹ:
(عطاء بن السائب صدوق لیکن مختلط راوی ہیں،
اور ابو عبیدہ کا لقاء اپنے والد عبداللہ بن مسعود سے نہیں ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3011]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2801
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2801]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شہیدوں کو قیامت سے پہلے جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔

(2)
برزخی زندگی میں شہیدوں کو دوسرا جسم ملتا ہے جو پرندوں کی شکل میں ہوتا ہے۔

(3)
قیامت کے بعد دوسرے جنتیوں کی طرح انسانی جسم کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے مستفید ہونگے۔

(4)
شہیدوں کی روحیں دوبارہ دنیا میں نہیں آتی اور نہ انھیں دوبارہ دنیوی زندگی ہی ملتی ہے۔

(5)
عرش الہی جنت سے اوپر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2801]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3011M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ " وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا السَّلَامَ وَتُخْبِرُهُ عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
اس سند سے ابن ابی عمر نے ابن مسعود سے اسی طرح روایت کی، مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ ہمارا سلام ہمارے نبی سے کہہ دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ ہم (اپنے رب سے) راضی و خوش ہیں اور وہ ہم سے راضی و خوش ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ (یعنی: اوپر والی سند سے، کیونکہ دوسری سند میں انقطاع ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3011M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(ضعیف الإسناد) (عطاء بن السائب صدوق لیکن مختلط راوی ہیں، اور ابو عبیدہ کا لقاء اپنے والد عبداللہ بن مسعود سے نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: (حديث مسروق عن عبد الله بن مسعود) صحيح، (حديث أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود الذي فيه زيادة) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (2801)
قال الشيخ زبير على زئي:(3011 ب) إسناده ضعيف
أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله بن مسعود رضى الله عنه (تقدم: 1061) والحديث الأول من الأصل صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3011 in Urdu