پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. باب ما جاء في القراءة في المغرب
باب: مغرب کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِ: " الْمُرْسَلَاتِ "، قَالَتْ: فَمَا صَلَّاهَا بَعْدُ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ ب: الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا " وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ ب: الطُّورِ " وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، أَنِ اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ: وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: ابْنُ الْمُبَارَكِ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، وقَالَ الشافعي: وَذَكَرَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِالسُّوَرِ الطِّوَالِ نَحْوَ الطُّورِ وَ الْمُرْسَلَاتِ، قَالَ الشافعي: لَا أَكْرَهُ ذَلِكَ بَلْ أَسْتَحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ بِهَذِهِ السُّوَرِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے: ان کی ماں ام الفضل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورۂ ”مرسلات“ پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورۃ الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورۃ الطور پڑھی،
۵- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو،
۶- اور ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے،
۷- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں،
۸- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 308]
۱- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورۃ الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورۃ الطور پڑھی،
۵- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو،
۶- اور ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے،
۷- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں،
۸- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 98 (763)، والمغازی 83 (4429)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (462)، سنن ابی داود/ الصلاة 132 (810)، سنن النسائی/الافتتاح 64 (986)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 9 (831)، (تحفة الأشراف: 18052)، مسند احمد (6/338، 340)، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1331) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے «إن آخر صلاة صلاّها النبي صلى الله عليه وسلم في مرض موته الظهر» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہر کی تھی، اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی، لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے «خرج إلينا رسول الله وهو عاصب رأسه» ”رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے“ جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (831)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4429
| يقرأ في المغرب ب والمرسلات عرفا |
صحيح البخاري |
763
| يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني والله لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب |
صحيح مسلم |
1033
| يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب |
جامع الترمذي |
308
| صلى المغرب فقرأ ب المرسلات |
سنن أبي داود |
810
| يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب |
سنن النسائى الصغرى |
987
| يقرأ في المغرب بالمرسلات |
سنن ابن ماجه |
831
| يقرأ في المغرب ب والمرسلات عرفا |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
139
| يقرا بها فى المغرب. |
مسندالحميدي |
340
|
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 308 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 308
اردو حاشہ:
1؎:
صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ((إِنَّ آخِرَ صَلَاةِِ صَلاَّهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي مَرَضِ مَوتِهِ الظُّهْرَ)) بظاہران دونوں روایتوں میں تعارض ہے،
تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہرکی تھی،
اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی،
لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے ((خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ)) ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے“ جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی،
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔
1؎:
صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ((إِنَّ آخِرَ صَلَاةِِ صَلاَّهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي مَرَضِ مَوتِهِ الظُّهْرَ)) بظاہران دونوں روایتوں میں تعارض ہے،
تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہرکی تھی،
اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی،
لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے ((خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ)) ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے“ جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی،
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 308]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 139
نماز مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنا
... سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل (لبابہ) بنت الحارث نے انہیں (نماز میں سورة المرسلات) «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے میرے بیٹے! تم نے اس قرأت کے ساتھ مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخر میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں اس کی قرأت کر رہے تھے ...“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 139]
... سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل (لبابہ) بنت الحارث نے انہیں (نماز میں سورة المرسلات) «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے میرے بیٹے! تم نے اس قرأت کے ساتھ مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخر میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں اس کی قرأت کر رہے تھے ...“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 139]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 763، ومسلم 462، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ آیت کریمہ «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» اور دیگر دلائل کی رو سے نماز میں فاتحہ کے علاوہ دوسری قرأت کا تعین و توقيت وجوباً ثابت نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہےکہ مسنون قرأت کا التزام کیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مغرب میں درج ذیل سورتوں کا پڑھنا بھی ثابت ہے:
◈ سورة الطور [صحيح بخاري: 765، وصحيح مسلم: 463، الاتحاف الباسم: 69]
◈ سورة الاعراف دو رکعتوں میں [سنن النسائي 170/2 ح 992 وسنده صحيح]
◈ قصار المفصل والی سورتیں يعني سورة البینة سے لے کر آخر تک [سنن النسائي: 167/2 ح 983 وسنده حسن و صححه ابن خزيمة: 520 وابن حبان، الا حسان: 1837]
➌ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما انفرادی نماز کی چاروں رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ اور قرآن کی ایک سورت پڑھتے تھے۔ [موطأ الامام مالك79/1 ح 171، وسنده صحيح]
➍ مزید فوائد کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث: 69، البخاري 765، ومسلم 463]
[وأخرجه البخاري 763، ومسلم 462، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ آیت کریمہ «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» اور دیگر دلائل کی رو سے نماز میں فاتحہ کے علاوہ دوسری قرأت کا تعین و توقيت وجوباً ثابت نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہےکہ مسنون قرأت کا التزام کیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مغرب میں درج ذیل سورتوں کا پڑھنا بھی ثابت ہے:
◈ سورة الطور [صحيح بخاري: 765، وصحيح مسلم: 463، الاتحاف الباسم: 69]
◈ سورة الاعراف دو رکعتوں میں [سنن النسائي 170/2 ح 992 وسنده صحيح]
◈ قصار المفصل والی سورتیں يعني سورة البینة سے لے کر آخر تک [سنن النسائي: 167/2 ح 983 وسنده حسن و صححه ابن خزيمة: 520 وابن حبان، الا حسان: 1837]
➌ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما انفرادی نماز کی چاروں رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ اور قرآن کی ایک سورت پڑھتے تھے۔ [موطأ الامام مالك79/1 ح 171، وسنده صحيح]
➍ مزید فوائد کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث: 69، البخاري 765، ومسلم 463]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 49]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 987
مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 987]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 987]
987 ۔ اردو حاشیہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہما ہی ہیں جو پہلی حدیث کی بھی راویہ ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 987]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:763
763. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل ؓ نے انہیں سورہ ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ﴿١﴾ ) پڑھتے سنا تو کہنے لگیں: میرے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا کہ یہی وہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ یہ سورت نماز مغرب میں پڑھ رہے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:763]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں حضرت ام الفضل ؓ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آخری نماز پڑھائی تھی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کرلیا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4429)
جبکہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں آخری نماز ظہر کی پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری (حدیث: 687)
میں ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس تعارض کو اس طرح دور فرمایا ہے کہ حضرت ام الفضل نے جس نماز مغرب کا ذکر کیا ہے وہ آپ نے اپنے گھر میں پڑھی تھی۔
جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 986)
اور حضرت عائشہ ؓ نے جس نماز ظہر کا بیان کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے لیکن جامع ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اس حالت میں نکلے کہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی، پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 308)
اس روایت کی توجیہ اس طرح ممکن ہے کہ آپ جہاں آرام فرما تھے وہاں سے نماز کے لیے باہر تشریف لائے، یعنی اپنے کمرے سے باہر صحن میں تشریف لائے۔
اس طرح تمام روایات میں تطبیق ہوسکتی ہے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں رہتا۔
(فتح الباري: 319/2)
(2)
مغرب کی نماز کا وقت چونکہ مختصر ہے، اس لیے بالعموم چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار کوئی بڑی سورت بھی پڑھ لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دفعہ مغرب میں سورۂ"والطور" پڑھی تھی۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 988)
ایک روایت میں سورۂ الدخان پڑھنے کا ذکر بھی ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 989)
یہ بھی مسنون طریقہ ہے۔
والله أعلم۔
(1)
ایک روایت میں حضرت ام الفضل ؓ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آخری نماز پڑھائی تھی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کرلیا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4429)
جبکہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں آخری نماز ظہر کی پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری (حدیث: 687)
میں ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس تعارض کو اس طرح دور فرمایا ہے کہ حضرت ام الفضل نے جس نماز مغرب کا ذکر کیا ہے وہ آپ نے اپنے گھر میں پڑھی تھی۔
جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 986)
اور حضرت عائشہ ؓ نے جس نماز ظہر کا بیان کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے لیکن جامع ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اس حالت میں نکلے کہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی، پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 308)
اس روایت کی توجیہ اس طرح ممکن ہے کہ آپ جہاں آرام فرما تھے وہاں سے نماز کے لیے باہر تشریف لائے، یعنی اپنے کمرے سے باہر صحن میں تشریف لائے۔
اس طرح تمام روایات میں تطبیق ہوسکتی ہے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں رہتا۔
(فتح الباري: 319/2)
(2)
مغرب کی نماز کا وقت چونکہ مختصر ہے، اس لیے بالعموم چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار کوئی بڑی سورت بھی پڑھ لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دفعہ مغرب میں سورۂ"والطور" پڑھی تھی۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 988)
ایک روایت میں سورۂ الدخان پڑھنے کا ذکر بھی ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 989)
یہ بھی مسنون طریقہ ہے۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 763]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4429
4429. حضرت ام فضل بنت حارث ؓ سےروایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا پڑھتے ہوئے سنا۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں کوئی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو فوت کر لیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4429]
حدیث حاشیہ:
1۔
اُم فضل ؓ حضرت ابن عباسؓ کی والدہ ہیں حضرت ام المومنین سیدہ میمونہ ؓ کی حقیقی بہن ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ان کی زیارت کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے اور وہیں قلیولہ فرماتے تھے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دنوں میں یہ اکثر اوقات اپنی بہن کے گھر ٹھہری رہیں۔
ایک دن حضرت ابن عباس ؓ نے سورہ مرسلات تلاوت کی تو انھوں نے فرمایا:
”بیٹے اللہ کی قسم!اس سورت کی تلاوت سے تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت یاد کرا دی ہے۔
آپ نے ایک دفعہ نماز مغرب میں اس سورت کو تلاوت کیا تھا۔
اس کے بعد ہم آپ کی تلاوت نہ سن سکے۔
یہ آپ کی آخری تلاوت تھی۔
اس کے بعد اللہ کی طرف سے پیغام رحلت آگیا۔
“ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 763)
1۔
اُم فضل ؓ حضرت ابن عباسؓ کی والدہ ہیں حضرت ام المومنین سیدہ میمونہ ؓ کی حقیقی بہن ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ان کی زیارت کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے اور وہیں قلیولہ فرماتے تھے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دنوں میں یہ اکثر اوقات اپنی بہن کے گھر ٹھہری رہیں۔
ایک دن حضرت ابن عباس ؓ نے سورہ مرسلات تلاوت کی تو انھوں نے فرمایا:
”بیٹے اللہ کی قسم!اس سورت کی تلاوت سے تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت یاد کرا دی ہے۔
آپ نے ایک دفعہ نماز مغرب میں اس سورت کو تلاوت کیا تھا۔
اس کے بعد ہم آپ کی تلاوت نہ سن سکے۔
یہ آپ کی آخری تلاوت تھی۔
اس کے بعد اللہ کی طرف سے پیغام رحلت آگیا۔
“ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 763)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4429]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 308 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← لبابة بنت الحارث الهلالية