الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. باب ما جاء في القراءة في صلاة العشاء
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ "، وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا، وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ، فَكَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا، وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ التِّينِ وَالزَّيْتُون ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے،
۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے،
۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 71 (1000)، (تحفة الأشراف: 1962)، مسند احمد (5/354، 355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 97 //
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1000
| يقرأ في صلاة العشاء الآخرة ب الشمس وضحاها وأشباهها من السور |
جامع الترمذي |
309
| يقرأ في العشاء الآخرة ب الشمس وضحاها ونحوها من السور |
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي