🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب ومن سورة هود
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3109
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: " كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ، وَيَقُولُ شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ: وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ، وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ۱؎، احمد بن منیع کہتے ہیں: (ہمارے استاد) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں وكيع بن حدس کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے وكيع بن عدس کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے،
۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (181) (تحفة الأشراف: 11176) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «عماء» : اگر بالمد ہو تو اس کے معنی «سحاب» ، «رقیق» (بدلی) کے ہیں، اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی «لاشیٔ» کے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (281) // {كذا} وهو في " ضعيف سنن ابن ماجة " برقم (32 - 182) ، مختصر العلو (193 و 250) ، السنة (612)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥لقيط بن عامر العقيلي، أبو رزينصحابي
👤←👥وكيع بن عدس العقيلي، أبو مصعب
Newوكيع بن عدس العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي
مقبول
👤←👥يعلى بن عطاء العامري
Newيعلى بن عطاء العامري ← وكيع بن عدس العقيلي
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← يعلى بن عطاء العامري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3109
في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء وخلق عرشه على الماء
سنن ابن ماجه
182
في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء ثم خلق العرش على الماء
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3109 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3109
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عماء:
اگر بالمد ہو تو اس کے معنی سحاب رقیق (بدلی) کے ہیں،
اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی لاشیٔ کے ہوتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3109]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث182
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا رب اپنی مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بادل میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا تھی، اور نہ ہی وہاں کوئی مخلوق تھی، (پھر پانی پیدا کیا) اور اس کا عرش پانی پہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 182]
اردو حاشہ: (1) (مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ،)
ترجمہ بعض علماء نے یوں کیا ہے جس کے نیچے بھی ہوا تھی، اور اوپر بھی۔
اس صورت میں ما موصولہ ہو گا۔
لیکن محمد فواد الباقی رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابن ماجہ کے حاشیے میں لکھا ہے کہ ما نافیہ ہے، موصولہ نہیں۔
ہم نے ترجمہ اس قول کے مطابق کیا گیا ہے۔

(2)
 كَانَ فِي عَمَاءٍ  (اللہ تعالیٰ عماء میں تھا)
اس کے ایک معنی تو بادل ہیں۔
ایک معنی یہ کیے گئے ہیں کہ اس سے مراد ایسی چیز ہے جو انسانی فہم سے ماوراء ہو، یعنی اس سوال کا جواب عقل سے ماوراء ہے۔
بہرحال ان توضیحات و تاویلات کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب حدیث قابل استدلال ہو۔
جیسا کہ ہمارے محقق نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
لیکن اس حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ سے جیسا کہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس میں تاویل کی ضرورت نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 182]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3109 in Urdu