سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب ومن سورة الأنبياء عليهم السلام
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ بَغْدَادِيٌّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَشْتُمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: " يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمُ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ "، قَالَ: فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَبْكِي وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ سورة الأنبياء آية 47 " الْآيَةَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ أُشْهِدُكُمْ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ، وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہو گا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر سرابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، (یہ سن کر) وہ شخص روتا پیٹتا ہوا واپس ہوا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے (اللہ نے فرمایا ہے) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال» الآية ”اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہو گا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے“ (الانبیاء: ۴۷)، اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3165]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16608) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3165) إسناده ضعيف
الزھري عنعن (تقدم:440)
الزھري عنعن (تقدم:440)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الرحمن بن غزوان الضبي، أبو نوح عبد الرحمن بن غزوان الضبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة له أفراد | |
👤←👥الفضل بن سهل الأعرج، أبو العباس الفضل بن سهل الأعرج ← عبد الرحمن بن غزوان الضبي | ثقة | |
👤←👥مجاهد بن موسى الختلي، أبو علي مجاهد بن موسى الختلي ← الفضل بن سهل الأعرج | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3165
| خانوك وعصوك وكذبوك وعقابك إياهم فإن كان عقابك إياهم بقدر ذنوبهم كان كفافا لا لك ولا عليك وإن كان عقابك إياهم دون ذنوبهم كان فضلا لك وإن كان عقابك إياهم فوق ذنوبهم اقتص لهم منك الفضل قال فتنحى الرجل فجعل يبكي ويهتف فقال رسول الله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3165 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3165
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہوگا،
اور اگرایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے اورہم کافی ہیں حساب کرنے والے (الأنبیاء: 47)
وضاحت:
1؎:
اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہوگا،
اور اگرایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے اورہم کافی ہیں حساب کرنے والے (الأنبیاء: 47)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3165]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق