🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ومن سورة النمل
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مَعَهَا خَاتَمُ سُلَيْمَانَ وَعَصَا مُوسَى فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ، وَتَخْتِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخُوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ، فَيَقُولُ: هَاهَا يَا مُؤْمِنُ، وَيُقَالُ: هَاهَا يَا كَافِرُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ فِي دَابَّةِ الْأَرْضِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب زمین سے) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی (مہر) اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، وہ اس عصا سے (لکیر کھینچ کر) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- «دابة الأرض» کے سلسلے میں اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،
۳- اس باب میں ابوامامہ اور حذیفہ بن اسید سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 31 (4066) (تحفة الأشراف: 12202)، و مسند احمد (2/295، 491) (ضعیف) (سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف، اور ”اوس بن خالد“ مجہول ہے)»
وضاحت: ۱؎: مولف اس حدیث کو ارشاد باری «وألق عصاك» (النمل: ۱۰) کی تفسیر ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1108) // ضعيف الجامع الصغير (2413) ، ضعيف ابن ماجة (881 / 4066) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3187) إسناده ضعيف / جه 4066
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف (تقدم:589) وأوس بن خالد : مجھول (تقدم:3142)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أوس بن أبي أوس الحجازي، أبو الجوزاء، أبو خالد
Newأوس بن أبي أوس الحجازي ← أبو هريرة الدوسي
ضعيف الحديث
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← أوس بن أبي أوس الحجازي
ضعيف الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3187
تخرج الدابة معها خاتم سليمان وعصا موسى فتجلو وجه المؤمن وتختم أنف الكافر بالخاتم حتى إن أهل الخوان ليجتمعون فيقول هاها يا مؤمن ويقال هاها يا كافر ويقول هذا يا مؤمن ويقول هذا يا كافر
سنن ابن ماجه
4066
تخرج الدابة ومعها خاتم سليمان بن داود وعصا موسى بن عمران عليهما السلام فتجلو وجه المؤمن بالعصا وتخطم أنف الكافر بالخاتم حتى أن أهل الحواء ليجتمعون فيقول هذا يا مؤمن ويقول هذا يا كافر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3187 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3187
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف اس حدیث کو ارشاد باری ﴿وَأَلْقِ عَصَاكَ﴾ (النمل: 10) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف،
اور اوس بن خالد مجہول ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3187]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4066
(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین سے «دابة» ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا، اس عصا (چھڑی) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا، حتیٰ کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن! اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4066]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم دابة الارض کا ظہور احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حديث: 4055، 4056)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4066]