Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب ومن سورة سبإ
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ؟ فَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ وَأَمَّرَنِي، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، سَأَلَ عَنِّي: " مَا فَعَلَ الْغُطَيْفِيُّ؟ " فَأُخْبِرَ أَنِّي قَدْ سِرْتُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَّنِي، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " ادْعُ الْقَوْمَ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى أُحْدِثَ إِلَيْكَ "، قَالَ: وَأُنْزِلَ فِي سَبَإٍ مَا أُنْزِلَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا سَبَأٌ أَرْضٌ أَوِ امْرَأَةٌ؟ قَالَ: " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا: فَلَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَغَسَّانُ، وَعَامِلَةُ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا: فَالْأُزْدُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَحِمْيَرٌ، وَكِنْدَةُ، وَمَذْحِجٌ، وَأنْمَارٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَنْمَارُ؟ قَالَ: " الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمُ، وَبَجِيلَةُ "، وَرُوِيَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے، تو میں آپ کے پاس آ گیا، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں کو تم دعوت دو، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا (و تازہ) حکم نہ بھیجوں۔ راوی کہتے ہیں: سبا کے متعلق (کلام پاک میں) جو نازل ہوا سو ہوا (اسی مجلس کے) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! سبا کیا ہے، سبا کوئی سر زمین ہے، یا کسی عورت کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی (انہیں منحوس جانا) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ: لخم، جذام، غسان اور عاملہ ہیں، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد، اشعری، حمیر، مذحج، انمار اور کندہ ہیں، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! انمار کون سا قبیلہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحروف 20 (3988) (تحفة الأشراف: 11023) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فروة بن مسيك المرادي، أبو عميرصحابي
👤←👥عبد الله بن عابس النخعي، أبو سبرة
Newعبد الله بن عابس النخعي ← فروة بن مسيك المرادي
مقبول
👤←👥الحسن بن الحكم النخعي، أبو الحكم، أبو الحسن
Newالحسن بن الحكم النخعي ← عبد الله بن عابس النخعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← الحسن بن الحكم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3222
أقاتل من أدبر من قومي بمن أقبل منهم فأذن لي في قتالهم وأمرني فردني قال ادع القوم فمن أسلم منهم فاقبل منه ومن لم يسلم فلا تعجل حتى أحدث إليك قال وأنزل في سبإ ما أنزل سبأ أرض أو امرأة قال ليس بأرض ولا امرأة ولكنه رجل ولد عشرة من العرب فتيامن منهم ستة وتشا