🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب ومن سورة الحجرات
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونَ لَهُ الِاسْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةُ فَيُدْعَى بِبَعْضِهَا، فَعَسَى أَنْ يَكْرَهَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أَبُو جَبِيرَةَ هُوَ أَخُو ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ بْنِ خَلِيفَةَ أَنْصَارِيٌّ، وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ.
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» لوگوں کو برے القاب (برے ناموں) سے نہ پکارو (الحجرات: ۱۱)، نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ (معتبر) شخص ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 71 (4962) (تحفة الأشراف: 11882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3741)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري، أبو جبيرةمختلف في صحبته
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سعيد بن الربيع الحرشي، أبو زيد
Newسعيد بن الربيع الحرشي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إسحاق الجوهري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسحاق الجوهري ← سعيد بن الربيع الحرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3268
يدعى ببعضها فعسى أن يكره نزلت هذه الآية ولا تنابزوا بالألقاب
سنن أبي داود
4962
يا فلان فيقولون مه يا رسول الله إنه يغضب من هذا الاسم أنزلت هذه الآية ولا تنابزوا بالألقاب
سنن ابن ماجه
3741
دعاهم ببعض تلك الأسماء فيقال يا رسول الله إنه يغضب من هذا نزلت ولا تنابزوا بالألقاب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3268 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3268
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
لوگوں کو برے القاب (برے ناموں) سے نہ پکارو (الحجرات: 11)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3268]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4962
القاب کا بیان۔
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے (الحجرات: ۱۱) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4962]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا ہے کہ برے برے لقب یا نام رکھنا حرام اور ناجائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4962]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3741
القاب کا بیان۔
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ولا تنابزوا بالألقاب» ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے پاس (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تنابزوا بالألقاب» کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3741]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  کسی کو ایسے نام یا لقب سے نہیں پکارنا چاہیے جو اسے نا گوار ہو۔

(2)
مسلمان کو دوسرے مسلمان کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے اور بلا وجہ ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے اس کے جذبات مجروح ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3741]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268M
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے داود نے شعبی سے اور شعبی نے ابوجبیرہ بن ضحاک سے اسی طرح روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3268M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3741)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري، أبو جبيرةمختلف في صحبته
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن خلف الجوباري، أبو سلمة
Newيحيى بن خلف الجوباري ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة