سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء أن دعوة المسلم مستجابة
باب: مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَطِيَّةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكَرْبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اچھا لگے (اور پسند آئے) کہ مصائب و مشکلات (اور تکلیف دہ حالات) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3382]
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13497) (حسن) (سند میں شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 593)»
قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (595)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3382
| من سره أن يستجيب الله له عند الشدائد والكرب فليكثر الدعاء في الرخاء |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3382 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3382
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں،
لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے،
ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 593)
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں،
لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے،
ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 593)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3382]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3382 in Urdu
شهر بن حوشب الأشعري ← أبو هريرة الدوسي