علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3462
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ". قَالَ: وفي الباب، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے ۱؎ اور اس کی باغبانی: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» سے ہوتی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3462]
۱- یہ حدیث ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9365) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: جنت کو ”جنت“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں درخت ہی درخت ہیں، جنت کے معنی ہوتے ہی ”باغات“ ہیں تو پھر ”خالی پڑی ہوئی ہے“ کا کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اس کے درخت بندوں کے اعمال ہی کا ثمرہ ہیں، اللہ کو اپنی غیب دانی سے یہ معلوم ہے کہ کون کون بندے اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوں گے، سو اس نے ان کے اعمال کے بقدر وہاں درخت اگا دیئے ہیں، یا اُگا دے گا، اس لحاظ سے گویا جنت درختوں سے خالی ایک میدان ہے۔ ۲؎: یعنی: بندہ جتنی بار کلمات کو کہتا ہے، اتنے ہی درخت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، التعليق الرغيب (2 / 245 و 256) ، الكلم الطيب (15 / 6) ، الصحيحة (106)
قال الشيخ زبير على زئي:(3462) إسناده ضعيف
عبدالرحمن بن إسحاق : ضعيف (تقدم: 741) وفي المسند (418/5) بإسناد حسن عن إبراهيم عليه السلام قال لرسول صلى الله عليه وسلم: مر أمتك فليكثرو ا من غراس الجنة فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة ، قيل : وما غراس الجنة؟ قال إبراهيم: لا حول ولا قوة إلا بالله
عبدالرحمن بن إسحاق : ضعيف (تقدم: 741) وفي المسند (418/5) بإسناد حسن عن إبراهيم عليه السلام قال لرسول صلى الله عليه وسلم: مر أمتك فليكثرو ا من غراس الجنة فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة ، قيل : وما غراس الجنة؟ قال إبراهيم: لا حول ولا قوة إلا بالله
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3462
| لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر |
المعجم الصغير للطبراني |
947
| رأيت إبراهيم الخليل صلى الله عليه وآله وسلم ليلة أسري بي فقال يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وغراسها قول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3462 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3462
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جنت کو”جنت“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں درخت ہی درخت ہیں،
جنت کے معنی ہوتے ہی ”باغات“ ہیں تو پھر”خالی پڑی ہوئی ہے“ کا کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اس کے درخت بندوں کے اعمال ہی کا ثمرہ ہیں،
اللہ کو اپنی غیب دانی سے یہ معلوم ہے کہ کون کون بندے اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوں گے،
سو اس نے ان کے اعمال کے بقدر وہاں درخت اگا دیئے ہیں،
یا اُگا دے گا،
اس لحاظ سے گویا جنت درختوں سے خالی ایک میدان ہے۔
2؎:
یعنی:
بندہ جتنی بار کلمات کو کہتا ہے،
اتنے ہی درخت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
وضاحت:
1؎:
جنت کو”جنت“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں درخت ہی درخت ہیں،
جنت کے معنی ہوتے ہی ”باغات“ ہیں تو پھر”خالی پڑی ہوئی ہے“ کا کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اس کے درخت بندوں کے اعمال ہی کا ثمرہ ہیں،
اللہ کو اپنی غیب دانی سے یہ معلوم ہے کہ کون کون بندے اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوں گے،
سو اس نے ان کے اعمال کے بقدر وہاں درخت اگا دیئے ہیں،
یا اُگا دے گا،
اس لحاظ سے گویا جنت درختوں سے خالی ایک میدان ہے۔
2؎:
یعنی:
بندہ جتنی بار کلمات کو کہتا ہے،
اتنے ہی درخت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3462]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3462 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود