🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ يَوْمَهُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي حِرْزٍ مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، وَحُرِسَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَمْ يَنْبَغِ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَّا الشِّرْكَ بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے (دو زانوں) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 49 (تحفة الأشراف: 11963) (حسن) (سند میں ”شہر بن حوشب“ ضعیف ہیں، لیکن ابوا ما مہ اور عبدالرحمن بن غنم کے شاہد سے تقویت پا کر حسن ہے، تراجع الالبانی 98) الصحیحة 114، صحیح الترغیب والترہیب 474، 475)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 166) // ضعيف الجامع الصغير (5738) //

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن غنم الأشعري
Newعبد الرحمن بن غنم الأشعري ← أبو ذر الغفاري
مختلف في صحبته
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد
Newشهر بن حوشب الأشعري ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري
صدوق كثير الإرسال والأوهام
👤←👥زيد بن أبي أنيسة الجزري، أبو أسامة
Newزيد بن أبي أنيسة الجزري ← شهر بن حوشب الأشعري
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمرو الأسدي، أبو وهب
Newعبيد الله بن عمرو الأسدي ← زيد بن أبي أنيسة الجزري
ثقة
👤←👥علي بن معبد العبدي، أبو محمد، أبو الحسن
Newعلي بن معبد العبدي ← عبيد الله بن عمرو الأسدي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← علي بن معبد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3474
من قال في دبر صلاة الفجر وهو ثان رجليه قبل أن يتكلم لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير عشر مرات كتب له عشر حسنات محيت عنه عشر سيئات رفع له عشر درجات كان يومه ذلك كله في حرز من كل مكروه حرس من الشيطان لم ينبغ
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3474 کے فوائد و مسائل
حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 3474
تخریج الحدیث:
[ترمذي: 3474 واسناده صحيح، عمل اليوم والليلة: 127]
فوائد:
اس حدیث سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بندہ اعمال کے کتنے ہی انبار کیوں نہ لگا دے، اگر اس کے اعمال میں شرک کی آمیزش ہوئی تو اس کے سارے اعمال ضائع و برباد ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ پیغمبروں کی ایک جماعت سے مخاطب ہو کر اعلان فرماتا ہے:
«﴿وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ﴾» [الانعام: 88]
اگر انہوں نے بھی شرک کیا ہوتا تو ان سب کے اعمال اکارت ہو جاتے ہیں۔

شرک اکبر الکبائر میں سے ہے اور شرک کا ارتکاب ظلم عظیم ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾» [لقمان: 13]
بے شک شرک ظلمِ عظیم ہے۔

مشرک اگر توبہ کے بغیر مر جائے تو اس پر ہمیشہ کے لئے بخشش کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾» [4-النساء:116]
بے شک اللہ اپنے ساتھ شرک کو معاف نہیں کرتا اور اس کے سوا جسے وہ چاہے بخش دیتا ہے۔

بلکہ مشرک پر ہمیشہ کے لئے جنت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴾» [5-المائدة:72]
بےشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اس اللہ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
[ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث/صفحہ نمبر: 6]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3474
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں،
لیکن ابوا ما مہ اور عبدالرحمن بن غنم کے شاہد سے تقویت پاکر حسن ہے) (تراجع الألباني: 98) (الصحیحة: 114،
صحیح الترغیب والترہیب: 474، 475)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3474]