سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: " قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ: اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3502]
یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 137 (401) (تحفة الأشراف: 1587) (ضعیف) (سند میں ”بقیہ“ اور ”مسلم بن زیاد“ دونوں ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: حسن الكلم الطيب (225 / 169) ، المشكاة (2492 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبير على زئي:(3502)
إسناده ضعيف
عبيدالله بن زحر ضعيف (د 3293) و روي الحاكم (528/1 ح 1934) من حديث خالد بن أبى عمران عن نافع عن ابن عمر نحو المعني وصححه الحاكم على شرط البخاري ووافقة اللذهبي ولكن سنده ضعيف ، عبدالله بن صالح كاتب الليث ضعيف فى غير رواية الحذاق عنه وهذه منها
إسناده ضعيف
عبيدالله بن زحر ضعيف (د 3293) و روي الحاكم (528/1 ح 1934) من حديث خالد بن أبى عمران عن نافع عن ابن عمر نحو المعني وصححه الحاكم على شرط البخاري ووافقة اللذهبي ولكن سنده ضعيف ، عبدالله بن صالح كاتب الليث ضعيف فى غير رواية الحذاق عنه وهذه منها
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥خالد بن أبي عمران التجيبي، أبو عمر خالد بن أبي عمران التجيبي ← عبد الله بن عمر العدوي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبيد الله بن زحر الضمري عبيد الله بن زحر الضمري ← خالد بن أبي عمران التجيبي | صدوق يخطئ | |
👤←👥يحيى بن أيوب الغافقي، أبو العباس يحيى بن أيوب الغافقي ← عبيد الله بن زحر الضمري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← يحيى بن أيوب الغافقي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3502
| اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا |
المعجم الصغير للطبراني |
962
| يدعو بهن : اللهم اغفر لي ما قدمت ، وما أخرت ، وما أسررت ، وما أعلنت ، وما أنت أعلم به مني ، اللهم ارزقني من طاعتك ما يحول بيني وبين معصيتك ، وارزقني من خشيتك ما تبلغني به رحمتك ، وارزقني من اليقين ما تهون به على من مصائب الدنيا ، وبارك فى سمعي وبصري ، واجعلهما الوارث مني ، واجعل ثأري على من ظلمني ، وانصرني على من عاداني ، ولا تجعل مصيبتي فى ديني ، ولا تجعل الدنيا أكبر همي ، ولا مبلغ علمي |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3502 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3502
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے،
اور ہمارے درمیان اپنی طاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے،
اور ہمیں اتنا یقین دے دے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اورآسان ہو جائیں،
اور جب تک تو زندہ رکھے ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ،
اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ،
اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے،
اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما،
اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے،
اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھا نا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔
نوٹ:
(سند میں ”بقیہ“ اور ”مسلم بن زیاد“ دونوں ضعیف ہیں)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے،
اور ہمارے درمیان اپنی طاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے،
اور ہمیں اتنا یقین دے دے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اورآسان ہو جائیں،
اور جب تک تو زندہ رکھے ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ،
اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ،
اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے،
اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما،
اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے،
اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھا نا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔
نوٹ:
(سند میں ”بقیہ“ اور ”مسلم بن زیاد“ دونوں ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3502]
خالد بن أبي عمران التجيبي ← عبد الله بن عمر العدوي