سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب في فضل التوبة والاستغفار وما ذكر من رحمة الله لعباده
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ (موت کے وقت) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3537]
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 30 (4253) (تحفة الأشراف: 6674) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: روح جسم سے نکلنے کے لیے اس کے گلے تک پہنچ نہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (4253)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3537
| الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر |
سنن ابن ماجه |
4253
| الله ليقبل توبة العبد ما لم يغرغر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3537 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3537
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
روح جسم سے نکلنے کے لیے اس کے گلے تک پہنچ نہ جائے۔
وضاحت:
1؎:
روح جسم سے نکلنے کے لیے اس کے گلے تک پہنچ نہ جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3537]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4253
توبہ کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ (عزوجل) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4253]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ (عزوجل) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4253]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نزع سے مراد روح قبض کرنے کاعمل شروع ہونا ہے۔
(2)
جب موت کے فرشتے ظاہر ہوجاتے ہیں۔
تو عالم آخرت سے تعلق قائم ہوجاتا ہے۔
اس لئے توبہ کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔
(3)
بند ے کو چاہیے کہ جلد از جلد توبہ کرلے معلوم نہیں کب آخری وقت آجائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نزع سے مراد روح قبض کرنے کاعمل شروع ہونا ہے۔
(2)
جب موت کے فرشتے ظاہر ہوجاتے ہیں۔
تو عالم آخرت سے تعلق قائم ہوجاتا ہے۔
اس لئے توبہ کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔
(3)
بند ے کو چاہیے کہ جلد از جلد توبہ کرلے معلوم نہیں کب آخری وقت آجائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4253]
حدیث نمبر: 3537M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
ابوعامر عقدی نے عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3537M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (4253)
الرواة الحديث:
جبير بن نفير الحضرمي ← عبد الله بن عمر العدوي