سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في مناقب عمر بن الخطاب رضى الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " , وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ , أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے (راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں،
۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3682]
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں،
۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7656)، و مسند احمد (2/53، 95) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (108)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3682
| الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3682 کے فوائد و مسائل
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ترمذی 3682
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
➊ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ .»
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔“ [سنن الترمذي: 3682، وصحيح ابن حبان: 6895، وسندہٗ حسن، والحدیث صحیح]
➋ قولِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
◈ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«مَا كُنَّا نُبْعِدُ اَنَّ السَّكِيْنَةَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ .»
”ہم بالکل بھی بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔“ [جامع معمر بن راشد: 20380، وسندہٗ حسن]
➌ حافظ نووی رحمہ اللہ کا قول
◈ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
«اِتَّفَقُوْا عَلٰی تَسْمِیَتِهِ بِالْفَارُوْقِ .»
”اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا لقب ’فاروق‘ ہے۔“ [تہذیب الأسماء واللغات: 4/2]
➍ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا قول
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
«اَمَّا لَقَبُہٗ فَھُوَ الْفَارُوْقُ بِاتِّفَاقٍ .»
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا لقب ’فاروق‘ ہے، اس پر (سبھی اہل ایمان کا) اتفاق ہے۔“ [فتح الباري: 44/7]
➎ فاروق کا معنی
فاروق کا مطلب ہے کہ حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔
➊ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ .»
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔“ [سنن الترمذي: 3682، وصحيح ابن حبان: 6895، وسندہٗ حسن، والحدیث صحیح]
➋ قولِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
◈ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«مَا كُنَّا نُبْعِدُ اَنَّ السَّكِيْنَةَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ .»
”ہم بالکل بھی بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔“ [جامع معمر بن راشد: 20380، وسندہٗ حسن]
➌ حافظ نووی رحمہ اللہ کا قول
◈ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
«اِتَّفَقُوْا عَلٰی تَسْمِیَتِهِ بِالْفَارُوْقِ .»
”اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا لقب ’فاروق‘ ہے۔“ [تہذیب الأسماء واللغات: 4/2]
➍ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا قول
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
«اَمَّا لَقَبُہٗ فَھُوَ الْفَارُوْقُ بِاتِّفَاقٍ .»
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا لقب ’فاروق‘ ہے، اس پر (سبھی اہل ایمان کا) اتفاق ہے۔“ [فتح الباري: 44/7]
➎ فاروق کا معنی
فاروق کا مطلب ہے کہ حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3682
اردو حاشہ:
۱؎: اسی لیے آپ کو ”ملہم“ یا ”محدث“ کہا جاتا ہے۔
۱؎: اسی لیے آپ کو ”ملہم“ یا ”محدث“ کہا جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3682]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3682 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي