یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب
باب
حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ "، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ، وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَزَائِدَةُ , وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے،
۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں
۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3721]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے،
۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں
۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 228) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (6085)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3721
| اللهم ائتني بأحب خلقك إليك يأكل معي هذا الطير فجاء علي فأكل معه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3721 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3721
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں،
اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم،
اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں،
اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم،
اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3721]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3721 in Urdu
السدي الكبير ← أنس بن مالك الأنصاري