سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب مناقب طلحة بن عبيد الله رضى الله عنه
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ , فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوْجَبَ طَلْحَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3738]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1692 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ رضی الله عنہ جنت کے حقدار قرار دئیے گئے، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
قال الشيخ الألباني: حسن مضى برقم (1759)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3738
| أوجب طلحة |
جامع الترمذي |
1692
| درعان يوم أحد فنهض إلى الصخرة فلم يستطع فأقعد طلحة تحته فصعد النبي عليه حتى استوى على الصخرة فقال سمعت النبي يقول أوجب طلحة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3738 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3738
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ رضی اللہ عنہ جنت کے حقدار قرار دیے گئے،
یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ رضی اللہ عنہ جنت کے حقدار قرار دیے گئے،
یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3738]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1692
زرہ کا بیان۔
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”طلحہ نے (اپنے عمل سے جنت) واجب کر لی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1692]
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”طلحہ نے (اپنے عمل سے جنت) واجب کر لی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1692]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو زرہیں پہننا توکل اورتسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے،
بلکہ اسباب و وسائل کو اپنانا توکل و رضاء الٰہی کے عین مطابق ہے۔
وضاحت:
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو زرہیں پہننا توکل اورتسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے،
بلکہ اسباب و وسائل کو اپنانا توکل و رضاء الٰہی کے عین مطابق ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1692]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3738 in Urdu
عبد الله بن الزبير الأسدي ← الزبير بن العوام الأسدي