🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب مناقب الحسن والحسين عليهما السلام
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ , فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے (جب کہ وہ حسین نہیں ہے) ۱؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1729) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ جملہ اس نے حسین رضی الله عنہ کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔
۲؎: اس سے پہلے حدیث رقم ۳۷۸۶ کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی الله عنہ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے: (۱) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی الله عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی الله عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ (۲) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ (۳) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے (دیکھئیے اگلی روایت)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (6170 / التحقيق الثاني)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة حافظ
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥خلاد بن أسلم الصفار، أبو بكر
Newخلاد بن أسلم الصفار ← النضر بن شميل المازني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3748
كان أشبههم برسول الله وكان مخضوبا بالوسمة
جامع الترمذي
3778
ما رأيت مثل هذا حسنا قال قلت أما إنه كان من أشبههم برسول الله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3778 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3778
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ جملہ اس نے حسین رضی اللہ عنہ کے حسن اور آپ ؓ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا،
اسی لیے انس بن مالک ؓ نے اسے جواب دیا۔

2؎:
اس سے پہلے حدیث (رقم: 3786) کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی اللہ عنہ سے گزری ہے،
اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے،
بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے،
علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے:
(1) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی اللہ عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی ؓ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔

(2) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن ؓ کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔

(3) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔
(دیکھئے اگلی روایت)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3778]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3748
3748. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، کہ والی کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس حضرت حسین ؓ کا سر مبارک لایا گیا جس کو ایک طشت میں رکھا گیا تھا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی مارنے لگا اور آپ کی خوبصورتی کے متعلق بھی کچھ کہا۔ حضرت انس ؓ نے اس وقت فرمایا: یہ تو ان (اہل بیت میں)سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔ حضرت حسین ؓ نے وسمہ کا خضاب استعمال کر رکھاتھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3748]
حدیث حاشیہ:

جامع ترمذی میں ہے کہ ابن زیاد حضرت حسین ؓ کی ناک پر چھڑی مار کر کہنے لگا۔
یہ کس قدر خوبصورت ہے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3778)
معجم طبرانی میں ہے کہ وہ دو آنکھوں اور ناک پر چھڑی مارتا تھا تو زید بن ارقم ؓ نے اسے کہا:
اپنی چھڑی سر سے اٹھالو۔
میں نے اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاہن مبارک دیکھا تھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 210/5۔
رقم 5121)
مسند بزار میں ہے کہ حضرت انس ؓ نے ابن زیادہ سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ بوسہ دیتے دیکھا ہے جہاں تو چھڑی مار رہا ہے تو وہ رک گیا(مسند البزار: 299/2، رقم: 6632۔
و فتح الباري: 122/7)

وسمہ ایک بوٹی ہے جس سے بالوں کو رنگا جاتا ہے۔
اس سے بال سیاہی مائل ہو جاتے ہیں خالص سیاہی سے ممانعت ہے اگر اس میں مہندی کا رنگ غالب ہو تو ممانعت نہیں ہے شریعت کی منشا یہ ہے کہ بالوں کی سفیدی جوانی کے بالوں کی سیاہی سے خلط ملط نہ ہو، بوڑھا آدمی،جوان نہ لگے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3748]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3778 in Urdu