سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب مناقب الحسن والحسين عليهما السلام
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3781
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ , فَسَمِعَ صَوْتِي , فَقَالَ: " مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ؟ قَالَ: إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ , وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3781]
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 3323) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (205 - 206) ، المشكاة (6162)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3781
| ملك لم ينزل الأرض قط قبل هذه الليلة استأذن ربه أن يسلم علي ويبشرني بأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3781 کے فوائد و مسائل
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ترمذی 3781
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ متواتر حدیث ہے:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .»
”حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ [سنن التّرمذي: 3781]
اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب، امام ابنِ خزیمہ [صحيح ابن خزيمة: 1194] ، امام ابن حبان [صحيح ابن حبان: 7126، 6960] اور امام حاکم [المستدرك على الصحيحين: 3/381، 151] نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی نے موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو حافظ سیوطی [الازهار: 103] نے متواتر قرار دیا ہے۔
امام حاکم ؒ کا تبصرہ
◈ امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
«هٰذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ .»
”یہ حدیث کئی طرق سے صحیح ہے۔“ [المُستدرك على الصحيحين: 3/167]
سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ سیدنا ابوجحیفہ سوائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ .»
”ابوبکر اور عمر بن خطاب نبیوں اور رسولوں کے علاوہ پہلے اور بعد والے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه: 100]
اس حدیث کو امام ابن حبان ؒ نے اپنی کتاب [صحيح ابن حبان: 4904] میں صحیح قرار دیا ہے۔
❀ متواتر حدیث ہے:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .»
”حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ [سنن التّرمذي: 3781]
اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب، امام ابنِ خزیمہ [صحيح ابن خزيمة: 1194] ، امام ابن حبان [صحيح ابن حبان: 7126، 6960] اور امام حاکم [المستدرك على الصحيحين: 3/381، 151] نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی نے موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو حافظ سیوطی [الازهار: 103] نے متواتر قرار دیا ہے۔
امام حاکم ؒ کا تبصرہ
◈ امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
«هٰذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ .»
”یہ حدیث کئی طرق سے صحیح ہے۔“ [المُستدرك على الصحيحين: 3/167]
سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ سیدنا ابوجحیفہ سوائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ .»
”ابوبکر اور عمر بن خطاب نبیوں اور رسولوں کے علاوہ پہلے اور بعد والے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه: 100]
اس حدیث کو امام ابن حبان ؒ نے اپنی کتاب [صحيح ابن حبان: 4904] میں صحیح قرار دیا ہے۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3781
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3781]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3781 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي