🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب فضل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ: وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ، فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ , فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ: " دَعْنِي عَنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 33 (4860) (تحفة الأشراف: 9227) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید بن زائدہ لین الحدیث راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد، لكن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3897،3896) إسناده ضعيف / د 4860

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زيد بن زائدة
Newزيد بن زائدة ← عبد الله بن مسعود
مقبول
👤←👥الوليد بن هشام الهمداني
Newالوليد بن هشام الهمداني ← زيد بن زائدة
مقبول
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← الوليد بن هشام الهمداني
ثقة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن يوسف الفريابي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3897
لا يبلغني أحد عن أحد شيئا
جامع الترمذي
3896
لا يبلغني أحد عن أحد من أصحابي شيئا فإني أحب أن أخرج إليهم وأنا سليم الصدر
سنن أبي داود
4860
لا يبلغني أحد من أصحابي عن أحد شيئا فإني أحب أن أخرج إليكم وأنا سليم الصدر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3896 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3896
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زید بن زائدہ لین الحدیث راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3896]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4860
لگانے بجھانے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں (گھر سے) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو (یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4860]
فوائد ومسائل:
انسان کو جب کسی اپنے پرائے کی کو ئی غلط بات پہنچتی ہے تو وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
زبان یا عمل سے خواہ اس کا اظہار نہ بھی کرے، مگر دل میں ضرور اس کا اثر ہوتا ہے۔
اس لئے بلا وجہِ معقول کسی کی غلط بات دوسرے کے سامنے نہیں کرنی چاہیئے۔
ہاں اگر شرعی ضرورت ہو۔
مثلاَ کسی واسطے سے اس کی نصیحت اور اصلاح مقصود ہو یا کسی کو متنبہ رکھنا مقصود ہوتا جائز ہے۔
یا وہ ازحد فاسق، فاجر اور ظالم ہو۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے: (لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا) برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالی پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کو اجازت ہے۔
(النساء: 148) علمائے اخلاق لکھتے ہیں کہ جو آدمی آپکے سامنے دوسروں پر تبصرے کرتا اور ان کی باتیں نقل کرتا ہے، غالب گمان ہے کہ وہ آپ کے متعلق بھی دوسروں کے ہاں باتیں کرتا ہوگا، اس لیے ایسے آدمی کی اس عادت کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہییے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4860]