سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب في أى دور الأنصار خير
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دِيَارِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3912]
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3353) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: بنی نجار ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (3911)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3913
| خير الأنصار بنو عبد الأشهل |
جامع الترمذي |
3912
| خير ديار الأنصار بنو النجار |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3912 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3912
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بنی نجار ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نانیہال تھا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا خاندان تھا،
نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی،
یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
نوٹ:
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں،
لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
بنی نجار ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نانیہال تھا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا خاندان تھا،
نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی،
یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
نوٹ:
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں،
لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3912]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3913
انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3913]
جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3913]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سابقہ حدیث میں ”بنی اشہل“ کا ذکر ”بنی نجار“ کے بعد آیا ہے،
تو یہاں ”من“ کا لفظ محذوف ماننا ہو گا،
یعنی: بنی اشہل انصارکے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
وضاحت:
1؎:
سابقہ حدیث میں ”بنی اشہل“ کا ذکر ”بنی نجار“ کے بعد آیا ہے،
تو یہاں ”من“ کا لفظ محذوف ماننا ہو گا،
یعنی: بنی اشہل انصارکے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3913]
عامر الشعبي ← جابر بن عبد الله الأنصاري