🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب في فضل المدينة
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ، قَالَ: فَهَلَّا إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ، اصْبِرِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8122) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج فقه السيرة (184)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3346
من صبر على لأوائها وشدتها كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة
صحيح مسلم
3345
لا يصبر على لأوائها وشدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة
صحيح مسلم
3344
من صبر على لأوائها كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة
جامع الترمذي
3918
من صبر على شدتها ولأوائها كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
648
ا يصبر على لاوائها وشدتها احد إلا كنت له شهيدا او شفيعا يوم القيامة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3918 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3918
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3918]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 648
مدینے کی مصیبتوں پر صبر کرنے کی فضیلت
«. . . 406- مالك عن قطن بن وهب عن عويمر بن الأجدع أن يحنس مولى الزبير أخبره أنه كان جالسا عند عبد الله بن عمر فى الفتنة، فأتته مولاة له تسلم عليه، فقالت: إني أردت الخروج يا أبا عبد الرحمن، اشتد علينا الزمان، فقال لها عبد الله بن عمر: اقعدي لكاع، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يصبر على لأوائها وشدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة. . . .»
. . . سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام یحنس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس فتنے (مسلمانوں کی باہمی جنگ) کے دور میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی ایک لونڈی سلام کرنے کے لئے آئی تو کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں (مدینے سے) نکل جانا چاہتی ہوں، ہم پر زمانہ بہت سخت ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: اری بیوقوف بیٹھ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینے کی مصیبتوں اور سختیوں پر جو بھی صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس پر گواہ یا اس کا سفارشی ہوں گا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 648]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1377/482، من حديث مالك به . من كتب الرجال وجاء فى الأصل: قطن بن واحد وهو خطأ . من رواية يحي بن يحي، وجاء فى الأصل: عن وهو خطأ]

تفقه:
➊ مدینہ طیبہ میں رہائش اور یہاں رہتے ہوئے مشکلات پر صبر کرنا انتہائی افضل کام ہے۔
➋ الله تعالی کے اذن کے ساتھ سفارش برحق ہے۔
➌ مک مکرمہ کے بعد مدینہ طیبہ تمام شہروں اور تمام علاقوں سے افضل ہے۔
➍ نیز دیکھئے [الموطأ ح 85، 479، 511، البخاري 7211، 1871، 1875، ومسلم 1382، 1383، 1388]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 406]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3344
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو بندہ بھی مدینہ کی تنگی و ترشی پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3344]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں (او)
کا لفظ اگرتنويع وتقسيم كے لیے ہو تو اس کا یہ معنی ہو گا،
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ میں سےگناہگاروں کی سفارش فرمائیں گے اورنیکو کاروں کےحق میں گواہی دیں گے یا اپنے دور کے لوگوں کے حق میں گواہی دیں گے،
اور بعد کے لوگوں کے بارے میں سفارش کریں گے،
اگر (او)
واؤ کےمعنی میں ہو تو سفارش اعمال صالحہ کی اور اس بات کی کہ یہ بندہ تنگیوں اور تکلیفوں پر صبر کیے مدینہ میں پڑا رہا،
اور یہ اپنے دور کے لوگوں کے حق میں ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3344]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3918 in Urdu