صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
86. باب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1377 ترقیم شاملہ: -- 3345
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3345]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یحنس بیان کرتے ہیں کہ میں فتنہ (واقعہ حرہ) کے عرصہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان کے پاس ان کی آزاد کردہ لونڈی سلام عرض کرنے کے لیے آئی اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے، ہمارے حالات بڑے تنگ ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: اے بے وقوف اور نادان عورت! بیٹھ رہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بندہ مدینہ کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1377
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥يحنس بن أبي موسى القرشي، أبو موسى يحنس بن أبي موسى القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥قطن بن وهب الليثي، أبو الحسن قطن بن وهب الليثي ← يحنس بن أبي موسى القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← قطن بن وهب الليثي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3346
| من صبر على لأوائها وشدتها كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة |
صحيح مسلم |
3345
| لا يصبر على لأوائها وشدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة |
صحيح مسلم |
3344
| من صبر على لأوائها كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة |
جامع الترمذي |
3918
| من صبر على شدتها ولأوائها كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
648
| ا يصبر على لاوائها وشدتها احد إلا كنت له شهيدا او شفيعا يوم القيامة |
Sahih Muslim Hadith 3345 in Urdu
يحنس بن أبي موسى القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي